فهرس الكتاب

الصفحة 6337 من 6343

فہم القرآن

ربط سورت: الاخلاص میں یہ بتایا گیا ہے کہ " اللہ" وہ ہے جو ہر اعتبار سے وحدہٗ لاشریک ہے، کوئی کسی اعتبار اور کسی درجے میں اس کی برابری نہیں کرسکتا، گویا کہ وہ حاکم مطلق ہے باقی محکوم ہیں، وہ بادشاہ ہے باقی اس کے در کے فقیر ہیں، وہ طاقتور ہے ہر کوئی اس کے سامنے عاجز اور بے بس ہے کیونکہ وہ طاقتور اور بادشاہ ہے اس لیے اسی کی پناہ طلب کرنی چاہیے۔

عقیدۂ توحید کے تقاضوں میں اہم ترین تقاضا یہ ہے کہ صرف ایک " اللہ" جو پوری مخلوق کا رب ہے اسی کو نفع ونقصان کا مالک سمجھا جائے اس لیے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم ہوا ہے کہ آپ ان الفاظ میں اپنے رب کی پناہ طلب کیا کریں کہ میں صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں اور ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔ رات کے اندھیرے کے شر سے جب وہ ہر چیز پر چھا جاتا ہے اور گرہوں میں پھونکیں مارنے والی عورتوں کے شر سے اور حاسد کے حسد سے جب وہ حسد کرتا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو " قُلْ" کا حکم دے کر یہ بات واضح کی گئی ہے کہ اللہ کے رسول بھی اپنے رب کی حفاظت اور نگرانی کے محتاج تھے جس طرح دوسرے انسان اور مخلوق اپنے رب کی حفاظت کی محتاج ہے۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ مخلوق کو پناہ دینے والا صرف ایک " اللہ" ہے وہ پناہ نہ دے تو کسی کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہے، وہی جن وانس اور پوری مخلوق کو پیدا کرنے اور پناہ دینے والا ہے۔ " ربِّ الْفَلَقْ" کا معنٰی ہے پھاڑنے والا۔" ربِّ الْفَلَقْ" کی صفت لانے کی دو وجوہات سمجھ میں آتی ہیں " رب" وہ ذات ہے جو غم اور خوف کے پردے چاک کرتا اور ہرقسم کی مشکلات دور فرما کر اپنے بندے کی حفاظت کرتا ہے۔2۔ وہی ہے جس نے ہر چیز کا آغاز پھاڑنے کے عمل سے کیا ہے۔ انسان اور چوپائے کا بچہ رحم مادر اور جانور کا بچہ انڈے کو پھاڑ کر نکلتا ہے، نباتات زمین کے سینے کو چیر کر نکلتی ہیں، بارش بادلوں کو پھاڑ کر نازل ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو بھی ایک دوسرے سے پھاڑ کر الگ کیا ہے۔ ( الانبیاء: 30) اور قیامت کے دن مردے بھی زمین کے پھٹنے سے باہر نکلیں گے:

(اِنَّ اللّٰہَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰی یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ فَاَنّٰی تُؤْفَکُوْنَ۔ فَالِقُ الْاِصْبَاحِ وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَکَنًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًا ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ) (الانعام: 95، 96)

" بے شک اللہ دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا ہے۔ وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا اور مردہ کو زندہ سے نکالنے والا ہے یہی اللہ ہے پھرتم کہاں بہکائے جاتے ہو؟ صبح کو نکالنے والا ہے اور اس نے رات کو آرام اور سورج اور چاند کو حساب کاذریعہ بنایا یہ نہایت غالب، اور سب کچھ جاننے والے کا مقرر کردہ اندازہ ہے۔"

رب " اللہ" کی وہ صفت اور نام ہے جس کا پہلی وحی میں یوں تعارف کروایا گیا۔

(اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ) (العلق: 1)

" اس رب کے نام سے پڑھیں جس نے انسان کو خون کے ایک لوتھڑے سے پیدا کیا ہے۔"

یہی وہ صفت ہے جسے الفاتحہ کی ابتدا میں رکھا گیا ہے گویا کہ قرآن کی ابتدا اور انتہاء اسی صفت پر ہو رہی ہے حقیقت یہ ہے کہ جس نے اپنے رب کو پہچان لیا وہ اپنے رب کا باغی نہیں ہو سکتا۔

پھاڑنے کی حقیقی قوت صرف ایک " رب" کے پاس ہے۔ اس لیے انسان کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ ہر دم اپنے رب کی پناہ طلب کیا کرے۔ " عُوْذٌ" چوپائے کے اس بچے کو کہتے ہیں جسے رحم مادر سے نکلنے کے بعد چلنے میں دشواری پیش آتی ہے، اس وجہ سے وہ لڑکھڑاکر گرتا اور اٹھتا ہے۔ " عُوْذٌ" کا لفظ لا کر یہ بتلا یا ہے کہ اے انسان! تو شیطان اور مخلوق کی شر کے مقابلے میں اس طرح ہی کمزور ہے جس طرح چوپائے کا بچہ پیدا ہونے کے وقت لاغر اور کمزور ہوتا ہے۔ شر کی نسبت مخلوق کی طرف اس لیے کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان سمیت جو بھی چیز پیدا کی ہے اس میں منفی اور مثبت صلاحیتیں رکھی ہیں۔ ان الفاظ میں یہ اشارہ ہے کہ انسان کو مخلوق کی مثبت صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاناچ اہیے اور اس کے شر سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنے رب سے اس یقین کے ساتھ پناہ طلب کرنی ہے کہ کوئی چیز بذات خود نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتی ہے اور نہ نقصان دے سکتی ہے۔ حضرت عمر (رض) نے اس عقیدہ کی یوں ترجمانی فرمائی تھی:

(عَنْ عَابِسِ ابْنِ رَبِےْعَۃَ(رض) قَالَ رَاَےْتُ عُمَرَ ےُقَبِّلُ الْحَجَرَ وَےَقُوْلُ اِنِّیْ لَاَ عْلَمُ اَنَّکَ حَجَرٌ مَّا تَنْفَعُ وَلَا تَضُرُّ وَلَوْلَا اَنِّیْ رَاَےْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ےُقَبِّلُ مَا قَبَّلْتُکَ)

(رواہ البخاری: باب ما ذکر فی الحجر الاسود)

" حضرت عابس بن ربیعہ (رض) کہتے ہیں میں نے حضرت عمر (رض) کو حجراسود چومتے دیکھا اور فرماتے ہوئے سُنا اے حجر اسود میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، نہ تو نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان دے سکتا ہے، اگر میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو تجھے بوسہ نہ دیتا۔"

توحید کا عقیدہ اس قدر سادہ اور واضح ہونے کے باوجود شرک کرنے والوں کی حالت یہ ہے کہ وہ فوت شدگان اور مزارات ہی سے نہیں بلکہ بعض لوگ مزارات پر لگے ہوئے جھنڈوں اور مٹی کو بھی اپنے لیے برکت اور پناہ کا باعث سمجھتے ہیں، کچھ لوگوں نے پنج تن پاک کے نام پر اپنے مکانوں پر پنجے لگا رکھے ہیں کہ ان کی وجہ سے انہیں حفاظت اور برکت حاصل ہوتی ہے، یہاں تک کہ کمزور عقیدہ لوگ ہاتھ میں مخصوص کڑے پہنتے ہیں اور انگوٹھی کے نگینے کے لیے خاص قسم کے پتھر تلاش کرتے ہیں۔ یہ سب شیطان کے بہکانے کا نتیجہ ہے کہ جو ہر نیکی کے کام میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے اور انسان کو ہر قسم کی برائی کی طرف لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے عوذ پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی اکثر دعاؤں کو اعوذ سے شروع کرتے تھے۔ یہاں شیطان اور پوری مخلوق کے شر سے " اللہ" کے حضور پناہ مانگنے کے بعد ان مخصوص چیزوں کے شر سے بھی پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جن سے انسان کو دوسری چیزوں کی نسبت نقصان پہنچنے کا جلد اندیشہ ہوتا ہے ان میں رات کا اندھیرا بھی شامل ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اندھیرے کے فوائد بھی ہیں لیکن اس میں شر بھی مضمر ہوتی ہے۔ ڈاکو اور چوراندھیرے میں ہی دوسرے کا گھر لوٹنے کے لیے دلیر ہوتے ہیں، کیڑے مکوڑے بھی رات کو نکلتے ہیں جادوگر بھی اندھیرے کو پسند کرتے ہیں اس لیے جادو، ٹونا کرنے والے کالے کپڑے پہنتے ہیں اور تاریک کمرے میں بیٹھ کر شیطانی عمل کرتے ہیں۔ شیطانی عمل کرنے والوں میں وہ عورتیں سب سے زیادہ لوگوں کے عقائد اور مال و جان کو نقصان پہنچاتی ہیں جو جادو کے ذریعے گرہوں میں پھونکیں مارتی ہیں۔ ٹونا، جادو کرنے والوں کے ساتھ وہ لوگ بھی معاشرے کا ناسور ہیں جو حسد کی وجہ سے دوسروں کو نقصان پہنچاتے ہیں:

(عَنْ جَابِرٍ(رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اِذَا کَانَ جُنْحُ اللَّیْلِ اَوْ اَمْسَیْتُمْ فَکُفُّوْا صِبْیَانَکُمْ فَاِنَّ الشَّیْطَانَ یَنْتَشِرُ حِیْنَءِذٍ فَاِذَا ذَھَبَ سَاعَۃٌ مِّنَ اللَّیْلِ فَخَلُّوْھُمْ وَاَغْلِقُوا لْاَبْوَابَ وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ فَاِنَّ الشَّیْطَانَ لَا یَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا وَاَوْکُوْا قِرَبَکُمْ وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ وَخَمِّرُوْا اٰنِیَتَکُمْ وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ وَلَوْ اَنْ تُعْرِضُوْا عَلَیْہِ شَیْءًا وَاطْفِءُوْا مَصَابِیْحَکُمْ)

(رواہ البخاری: باب خیر مال المسلم غنم یتبع بہا شعف الجبال)

" حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: جب رات چھا جائے، یا مغرب ہوجائے، تو اپنے بچوں کو گھروں سے باہر نکلنے سے روکو، کیونکہ اس وقت شیطان گھومنے پھرنے لگ جاتے ہیں۔ جب رات کا کچھ حصہ گزر جائے تو اپنے بچوں کو آزاد کردو، دروازے بند رکھو اور انہیں بند کرتے وقت بسم اللہ پڑھو' کیونکہ شیطان بند دروازے نہیں کھولتا۔ بسم اللہ پڑھ کر مشکیزے کے منہ پر رسی باندھا کرو، اور اپنے برتنوں کو بسم اللہ پڑھ کر ڈھانپا کرو' اگرچہ ان پر کوئی معمولی چیز ہی کیوں نہ رکھی جائے، نیز سوتے وقت چراغوں کو بجھا دیا کرو۔"

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت