فہم القرآن
ربط کلام: تورات کی تعلیمات کی مزید وضاحت۔ قانون کی بالادستی اور حدود اللہ کا نفاذ۔
حدود الٰہی کو دل و جان سے تسلیم کرنا مجرمانہ ذہنیت کے لیے ہمیشہ سے مشکل رہا ہے۔ انسانوں کی اکثریت کا یہ حال ہے کہ جب کسی معاشرے میں جرم سرزد ہوتا ہے تو وہ سخت نفرت کا اظہار اور مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن جونہی کچھ عرصہ گزر جائے تو اکثریت کی ہمدردیاں مظلوم کے ساتھ نہ صرف ختم ہوجاتی ہیں بلکہ مجرم کو سزا دینے کے وقت ان کو مجرم پر ترس آنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس لیے سورۃ نور آیت 2 میں حکم دیا کہ جب مجرموں کو سزا دی جائے تو مومنوں کو اس پر ترس نہیں آنا چاہیے۔ حدود کے نفاذ اور اس کی اہمیت کے پیش نظر یہاں تورات کی روشن تعلیمات کا ذکر کرنے سے پہلے " اناانزلنا" کے الفاظ لائے گئے ہیں کہ اس کے نفاذ اور تعلیم میں ذرّہ برابر شک اور رعایت کی گنجائش نہیں کیونکہ تورات اور اس میں نازل ہونے والے احکامات اللہ تعالیٰ نے ہی نازل فرمائے ہیں۔ جو لوگوں کی رہنمائی کے لیے اتنے واضح اور روشن ہیں کہ ان میں کسی قسم کا کوئی اشتباہ نہیں پایا جاتا۔ انھی ہدایات پر انبیاء ( علیہ السلام) بنی اسرائیل اور ان کے صالح کردار حکمران عمل پیرا تھے اور آج بھی منصفانہ مزاج رکھنے والے لوگ تورات کی سچی تعلیمات اور اس میں درج شدہ حدود کی شہادت دیتے ہیں۔ جب یہ ہدایت روشن اور فی الواقع اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہیں۔ تو پھر اس پر عمل کرنے میں لوگوں سے ڈرنے کی بجائے، صرف اللہ تعالیٰ ہی سے ڈرنا چاہیے۔ اور جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی بجائے لوگوں سے ڈرتے اور دنیا کے فائدے کو اللہ تعالیٰ کی آیات پر مقدم جانتے ہوئے ان کا نفاذ نہیں کرتے وہ لوگ کافر ہیں۔
(عَنْ عَاءِشَۃَ(رض) أَنَّ قُرَیْشًا أَہَمَّہُمْ شَأْنُ الْمَرْأَۃِ الْمَخْزُومِیَّۃِ الَّتِی سَرَقَتْ فَقَالَ وَمَنْ یُکَلِّمُ فیہَا رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالُوا وَمَنْ یَجْتَرِئُ عَلَیْہِ إِلَّا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ حِبُّ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَکَلَّمَہُ أُسَامَۃُ فَقَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَتَشْفَعُ فِی حَدٍّ مِنْ حُدُود اللّٰہِ ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا أَہْلَکَ الَّذِینَ قَبْلَکُمْ أَنَّہُمْ کَانُوا إِذَا سَرَقَ فیہِمْ الشَّرِیفُ تَرَکُوہُ وَإِذَا سَرَقَ فیہِمْ الضَّعِیفُ أَقَامُوا عَلَیْہِ الْحَدَّ وَایْمُ اللّٰہِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ یَدَہَا) [ رواہ البخاری: کتاب الحدود، باب حَدِیثُ الْغَارِ]
" حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ قریش کے قبیلہ بنو مخزومیہ کی عورت جس نے چوری کی تھی اس کی وجہ سے خفت محسوس کرنے لگے۔ انھوں نے کہا کہ اس کے بارے میں اللہ کے رسول کے ہاں کون سفارش کرے گا ؟ تو انھوں نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیارے صحابی اسامہ بن زید (رض) کو اس کی ہمت و الا پایا۔ اسامہ بن زید (رض) نے اس عورت کی سفارش کی تو اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم اللہ کے مقرر کردہ حد کے متعلق سفارش کرتے ہو۔ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو فرمایا تم سے پہلے لوگوں کی ہلاکت کی وجہ یہ بھی تھی جب ان میں معزز قبیلے کا فرد چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا اور جب کوئی کمزور کسی جرم کا مرتکب ہوتا تو اس پر قانون کا نفاذ کرتے۔ اللہ کی قسم! اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی فاطمہ (رض) بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔"
مسائل
1۔ یہودی تورات نہیں مانتے۔
2۔ کتاب اللہ کے مطابق فیصلے نہ کرنے والے کافر ہیں۔
3۔ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات کو نہ ماننے والا مومن نہیں ہو سکتا۔