فهرس الكتاب

الصفحة 3598 من 6343

فہم القرآن

ربط کلام: نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر کا ماحول۔

آیت 28 سے لے کر مختلف انداز میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر والوں کو خطاب کیا ہے اس موقعہ پر آخری حکم ہوا کہ پاک صاف ماحول میں رہتے ہوئے " اللہ" کی آیات اور حکمت کی باتیں جو تمہارے گھروں میں وحی کی صورت میں پڑھی جاتی ہیں ان کو یاد رکھو اور ان کی تلاوت کیا کرو۔ ہمیشہ عقیدہ اپناؤ کہ اللہ تعالیٰ نہایت مہربان اور ہر بات کی خبر رکھنے والا ہے۔ اس فرمان میں یہ بات کھل گئی ہے کہ اہل بیت میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج بدرجہ اولیٰ شامل ہیں کیونکہ وحی حضرت علی (رض) کے گھر میں نازل نہیں ہوتی تھی جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں ہوتے تو وحی امّہات المؤمنین کے حجروں میں ہی نازل ہوا کرتی تھی۔

اکثر اہل علم اور مفسرین نے حکمت کے معانی فہم و فراست، علم وحلم، عدل و انصاف، حقیقت اور سچائی تک پہنچنا اور دین کی سمجھ حاصل کرنا بیان کیے ہیں اس کی تائید حدیث شریف سے بھی ہوتی ہے۔

(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ ضَمَّنِی النَّبِیُّ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِلَی صَدْرِہِ وَقَال اللَّہُمَّ عَلِّمْہُ الْحِکْمَۃَ ) [ رواہ البخاری: باب ذِکْرُ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) ]

" حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنے گلے لگایا اور میرے لیے دعا کی کہ اے اللہ ! اسے قرآن کا فہم عطا فرما۔"

(عَنْ اأمِّ سَلْمَۃَ أَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لَا تُؤْذِیْنِیْ فِیْ عَاءِشَۃَ، فَوَاللّٰہِ مَا مِنْکُنَّ اِمْرَأَۃً یَنْزِلُ عَلَّیَّ الْوَحْیُ وَأَنَا فِیْ لِحَافِہَا لَیْسَ عَاءِشَۃَ قُلْتُ لَا جَرَمَ، وَاللّٰہِ لَا أُؤْذِیْکَ فِیْہَا اأبَدًا) [ مسند ابی یعلیٰ الموصلی]

" ام سلمہ (رض) بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے عائشہ کے بارے میں پریشان نہ کرنا۔ اللہ کی قسم ! عائشہ کے علاوہ تم میں سے کوئی بیوی نہیں کہ جس کے لحاف میں مجھ پر وحی نازل ہوتی ہو۔ میں نے کہا کوئی شک نہیں ! اللہ کی قسم میں عائشہ کے بارے میں آپ کو کبھی پریشان نہیں کروں گی۔"

گھر میں نماز اور تلاوت کرنے کا حکم:

(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُول اللَّہِ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لاَ تَجْعَلُوا بُیُوتَکُمْ مَقَابِرَ إِنَّ الشَّیْطَانَ یَنْفِرُ مِنَ الْبَیْتِ الَّذِی تُقْرَأُ فیہِ سُورَۃُ الْبَقَرَۃِ ) [ رواہ: باب اسْتِحْبَابِ صَلاَۃِ النَّافِلَۃِ فِی بَیْتِہِ وَجَوَازِہَا فِی الْمَسْجِدِ]

" حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، جس گھر میں سورۃ البقرۃ پڑھی جاتی ہے اس گھر سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔"

(عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ النَّبِیَّ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَتَی مَسْجِدَ بَنِی عَبْدِ الأَشْہَلِ فَصَلَّی فیہِ الْمَغْرِبَ فَلَمَّا قَضَوْا صَلاَتَہُمْ رَآہُمْ یُسَبِّحُونَ بَعْدَہَا فَقَالَ ہَذِہِ صَلاَۃُ الْبُیُوتِ) [ رواہ ابوداؤد: باب رَکْعَتَیِ الْمَغْرِبِ أَیْنَ تُصَلَّیَانِ]

" سعد بن اسحاق بن کعب بن عجرہ اپنے باپ اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو عبدالاشہل کی مسجد میں تشریف لائے۔ آپ نے وہاں مغرب کی نماز پڑھی۔ جب انہوں نے فرض نماز مکمل کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں نفل پڑھتے ہوئے دیکھا۔ تو آپ نے فرمایا یہ گھروں میں پڑھی جانے والی نماز ہے، یعنی نفلی نماز گھر میں پڑھنی زیادہ افضل ہے۔"

مسائل

1۔ گھر میں قرآن مجید کی تلاوت اور حدیث شریف کا تذکرہ کرنا چاہیے۔

2۔ اللہ تعالیٰ نہایت مہربان اور ہر بات کی خبر رکھنے والاہے۔

تفسیربالقرآن

تلاوت قرآن اور اس کی حکمت:

1۔ قرآن کی تلاوت کا حق ادا کرنا چاہیے۔ (البقرۃ: 121) 2۔ قرآن کی تلاوت کے وقت تدبر کرنا چاہیے۔ (النساء: 82)

3۔ سحری کے وقت تلاوت کرنا افضل ہے۔ (الاسراء: 78)

4۔ اللہ کے بندے رات کو اٹھ اٹھ کر قران مجید کی تلاوت کرتے ہیں۔ (آل عمران: 113)

5۔ ایمانداروں کے دل اللہ کے ذکر سے سہم جاتے ہیں جب ان کے سامنے اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے وہ اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ (الانفال: 2)

6۔ جن کو کتاب دی گئی وہ اس کی تلاوت اسی طرح کرتے ہیں جس طرح تلاوت کرنے کا حق ہے۔ (البقرۃ: 121)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت