فهرس الكتاب

الصفحة 3656 من 6343

فہم القرآن

ربط کلام: قوم سبا کا تمدّن۔

قوم سبا اپنے دور میں نظام آبپاشی اور زراعت میں ہی خود کفیل اور انتہائی ترقی یافتہ نہ تھی بلکہ تہذیب و تمدّن کے اعتبار سے بھی اپنی مثال آپ اور باکمال تھی۔ اس کے اکثر شہر اور بستیاں شاہراؤں پر واقع تھے جس سے سفر آسان، محفوظ اور مسافروں کو کھانے پینے اور قیام میں کوئی دقت پیش نہیں آیا کرتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تعمیر و ترقی کی ایسی صلاحیتیں عطا فرمائیں تھیں جنہیں بروئے کار لاتے ہوئے انہوں نے ٹھیک منصوبہ بندی کے ساتھ تعمیراتی کام کیے اور شہروں کے بہترین نقشے بنائے جس سے عوام کو ہر قسم کی سہولت میسرتھی۔ لوگ پُر سکون اور عیش کی زندگی بسر کررہے تھے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ یہ لوگ پُر سکون زندگی اور ملک کی ترقی پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہوتے لیکن انہوں نے شکر کی بجائے نا شکری کا رویہ اختیار کیا اور اس قدر بغاوت کی۔ کہنے لگے کہ اے ہمارے رب! ہمارے شہروں کے درمیان مسافت پیدا کردے۔

اس طرح انہوں نے آبادی کی کثرت اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اپنے لیے بوجھ جانا۔ انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی ترقی اور خوشحالی کو ان کے لیے وبال بنایا اور شدید سیلاب کے ذریعے انہیں تہس نہس کردیا جو طویل عرصہ تک اپنے بعد آنیوالی اقوام کے لیے عبرت گاہ بن گئے۔ قوم سبا کی تاریخ اور آثار اس شخص کے لیے سامان عبرت ہیں جو مشکلات پر صبر اور خوشحالی پر اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہے۔

ضروری نہیں ہے کہ انہوں نے زبان ہی سے یہ دعا کی ہو کہ " اللہ" ہماری بستیوں کو ایک دوسرے سے دور کر دے۔ دراصل جو شخص اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے گویا وہ زبان حال اور اپنے برے کردار کے ذریعے یہ کہتا ہے کہ الٰہی میں ان نعمتوں کا مستحق نہیں ہوں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت