فهرس الكتاب

الصفحة 4364 من 6343

فہم القرآن

ربط کلام: قرآن مجید بھی وحی کے ذریعے نازل ہوا ہے۔ لیکن یہ وحی جبرائیل امین (علیہ السلام) کے ذریعے آیا کرتا تھی۔ اس لیے بالخصوص جبرائیل امین (علیہ السلام) کا ذکر کیا ہے۔

ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے حکم سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف جبریل امین (علیہ السلام) کے ذریعے قرآن نازل کیا۔ حالانکہ اس سے پہلے آپ نہیں جانتے تھے کہ" اَلْکِتَابُ" اور " اَلْاِیْمَانُ" کیا ہوتا ہے؟ لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے نور ہدایت بنایا ہے۔ اس کے ساتھ جسے چاہتا ہے اپنے بندوں کو ہدایت کے ساتھ سرفراز فرماتا ہے۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یقین جانو! کہ آپ صراط مستقیم کی راہنمائی کرنے والے ہیں۔ یہ صراط مستقیم اللہ کا متعین کردہ ہے۔ اللہ ہی وہ ذات ہے جو زمین و آسمانوں کی ہر چیز کا مالک ہے۔ سب کام اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جاتے ہیں اور وہی لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے والاہے۔ سورۃ کے اختتام میں ایک مرتبہ پھر بالواسطہ کفار کے اس الزام کی تردید کی گئی ہے جو کہتے تھے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن اپنی طرف سے تیار کرلیا ہے۔ حالانکہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل امین (علیہ السلام) نے آپ کے دل پر نازل کیا ہے۔ اس بات کو ان الفاظ میں بھی بیان کیا گیا ہے۔

(وَاِِنَّہٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍ وَاِِنَّہٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ ) [ الشعراء: 192 تا 196]

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت