فهرس الكتاب

الصفحة 3609 من 6343

فہم القرآن

ربط کلام: نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو " اللہ" کی یاد دلانے اور اس کی توحید کی شہادت دینے کے لیے مبعوث کیے گئے۔

نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس لیے مبعوث فرمایا گیا تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو " اللہ" کے حکم کے مطابق " اللہ " کی طرف بلائیں اور " اللہ" کی توحید کی دعوت اور شہادت دیں اور لوگوں کو " اللہ" کی یاد کی تلقین کریں۔ جو لوگ اس دعوت کو قبول کریں انہیں دنیا و آخرت میں کامیابی اور اللہ تعالیٰ کے عظیم فضل کی خوشخبری سنائیں۔ جو اس دعوت کا انکار کریں انہیں ان کے برے انجام سے ڈرائیں اور جو لوگ دعوت کے راستے میں رکاوٹ بنیں وہ کافر ہوں یا منافق انہیں انکے حال پر چھوڑ دیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنا مشن جاری رکھیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے مشن کو کامیاب فرمائے گا کیوں کہ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے اپنے بندے کے لیے کافی ہے۔ یہاں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اقدس کو سراج منیر قرار دیا گیا ہے۔ یعنی ہدایت کا چمکتا ہوا سورج جس سے کفر و شرک کی تاریکیاں چھٹ گئیں اور نور ہدایت سے فضا منور ہوگئی گویا کہ آپ نور ہدایت تھے نور مجسم نہ تھے۔ اس حقیقت کے باوجود کچھ علماء نے اپنے باطل عقیدہ کی بناء پر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نورِمجسم لکھا ہے حالانکہ نوع ذات کے اعتبار سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انسان تھے اور حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں شامل ہیں جو شخص آپ کے پیکر خاکی کو نور مجسم کہتا ہے وہ کفر و شرک کی بات کرتا ہے کیونکہ قرآن مجید نے بار بار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بشر کہا ہے۔

(قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰٓی اِلَیَّ اَنَّمَآ اِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖٓ اَحَدًا) [ الکہف: 110]

" اے نبی فرمادیں میں تو تمہاری طرح کا ایک انسان ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود بس ایک ہی معبود ہے پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہے۔ اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور عبادت میں اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے۔"

شاہد:

کچھ مفسرین نے اس جہالت کا مظاہرہ کیا ہے کہ انسان جو بھی عمل کرتا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے عمل پر گواہ ہوتے ہیں اور قیامت کے دن لوگوں کے ہر عمل پر شہادت دیں گے۔ حالانکہ عقل و نقل کے لحاظ سے یہ بات سو فیصد غلط ہے یہ ایسا عقیدہ اور بات ہے کہ جس کا کوئی صحابی (رض) بھی قائل نہ تھا۔

مسائل

1۔ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو توحید کی شہادت اور حق کی گواہی دینے والا بنا کر مبعوث فرمایا ہے۔

2۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مومنوں کو خوشخبری دینے والے اور کفار اور منافقوں کو انتباہ کرنے والے تھے۔

3۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نور مجسم نہیں بلکہ نورِہدایت تھے۔

4۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو اللہ کے حکم سے اللہ کی طرف بلانے والے تھے۔

5۔ کفار اور منافقوں کی مخالفت کو خاطر میں نہیں لانا چاہیے۔ 6۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کو اپنے فضل عظیم کی بشارت دیتا ہے۔

تفسیر بالقرآن

نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت و شان:

1۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں گستاخی کرنے والے کافر ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (البقرۃ: 104)

2۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو شاہد، مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ (الفتح: 8)

3۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا منصب لوگوں پر شہادت قائم کرنا ہے۔ (المزمل: 15)

4۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دوسرے انبیاء ( علیہ السلام) اپنی اپنی امت کے بارے میں گواہی دیں گے۔ (النساء: 41)

5۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شاہد اور مبشر بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ (الاحزاب: 45)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت