فهرس الكتاب

الصفحة 5172 من 6343

فہم القرآن

ربط کلام: نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو منافقین کی گستاخیوں سے بچانے کے لیے خصوصی حکم۔

اسی سورت کی آیت 8 میں ا رشاد ہوا ہے کہ کچھ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس طرح سلام نہیں کہتے جس طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں سلام کہنے کی تعلیم دی ہے اس طرح سلام نہ کہنے والے عام طور پر منافق تھے۔ منافقین کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دور رکھنے اور ان کی گستاخیوں سے بچانے کے لیے حکم ہوا کہ اے مومنو! جب تم نے اللہ کے رسول سے علیحدگی میں بات کرنا ہو تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کرنے سے پہلے صدقہ کیا کرو یہ تمہارے لیے بہتر اور پاکیزگی کا عمل ہے، اگر کوئی مومن صدقہ کرنے کے لیے کوئی چیزنہ پائے اور وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے علیحدگی میں ملاقات کرنا چاہے تو اسے ملاقات کرنے کی اجازت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا مہربان ہے۔ اگر تم صدقہ کرنے میں تنگی محسوس کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ نے اس شرط کو معاف کردیا ہے۔ اب اخلاص کے ساتھ نماز پڑھو، زکوٰۃ دو، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو۔ ہمیشہ یادر کھو کہ جو تم عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہوتا ہے۔ یہاں صدقہ کرنے کو خیر اور پاکیزگی قرار دیا گیا ہے صدقہ اس لیے خیر ہے کہ یہ نیکی کا کام ہے۔ اس سے مال میں برکت ہوتی ہے اور مسلمان کے گناہ معاف ہونے کے ساتھ اس کا مال میل کچیل سے اور دل بخیلی سے پاک ہوتا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات سے پہلے صدقہ کرنے کی پابندی اس لیے لگائی گئی تاکہ منافق اور دوسرے لوگ خوامخواہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قیمتی وقت ضائع نہ کریں اور لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملنے کے آداب سیکھ جائیں لیکن اس حکم میں ایک مشقت پائی جاتی تھی۔ اس لیے چند دنوں کے بعد صدقہ کرنے کی پابندی اٹھالی گئی تاکہ مسلمانوں کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ملاقات کرنے میں کوئی دِ قت اور رکاوٹ نہ رہے، اس لیے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر توجہ فرمائی یعنی اس نے اپنا کرم فرماتے ہوئے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کرنے سے پہلے صدقہ کرنے کی پابندی ختم کردی ہے۔ اب تم اخلاص کے ساتھ نماز پڑھتے رہو، زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں زندگی بسر کرو۔

مسائل

1۔ صدقہ کرنا انسان کے لیے بہتر اور پاکیزگی کا باعث ہوتا ہے۔ 2۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کرم فرمانے والاہے۔

3۔ ایمانداروں کے لیے حکم ہے کہ وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیتے رہیں اور ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرتے رہیں۔

4۔ لوگ جو بھی عمل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے۔ 5۔ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔

تفسیربالقرآن

اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم اور اس کے فائدے:

1۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ایمان کی نشانی ہے۔ (الانفال: 1)

2۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت باعث رحمت ہے۔ (التوبہ: 71)

3۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے ہی کامیاب ہوں گے۔ (النور: 52)

4۔ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرنے والے کو جنت میں داخل کیا جائے گا۔ (النساء: 13)

5۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے انبیاء، صلحاء شہداء، اور سچے لوگوں کے ساتھ ہوں گے۔ (النساء: 69)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت