فهرس الكتاب

الصفحة 1144 من 6343

صداقت رسالت پر اللہ کی گواہی

کیا ان کافروں نے کبھی اس بات پر غور کیا کہ «وَمَا صَاحِبُکُم بِمَجْنُونٍ» ۱؎ (81-التکویر:22) ' جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جنون کی کوئی بات بھی ہے ؟ ' جیسے فرمان ہے «قُلْ إِنَّمَا أَعِظُکُم بِوَاحِدَۃٍ أَن تَقُومُوا لِلہِ مَثْنَیٰ وَفُرَادَیٰ ثُمَّ تَتَفَکَّرُوا مَا بِصَاحِبِکُم مِّن جِنَّۃٍ إِنْ ہُوَ إِلَّا نَذِیرٌ لَّکُم بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیدٍ» ۱؎ (34-سبأ:46) ' آؤ میری ایک بات تو مان لو ، ذرا سی دیر خلوص کے ساتھ اللہ کو حاضر جان کر اکیلے وکیلے غور تو کرو کہ مجھ میں کون سا دیوانہ پن ہے ؟ میں تو تمہیں آنے والے سخت خطرے کی اطلاع دے رہا ہوں کہ اس سے ہوشیار رہو ۔ ' جب تم یہ کرو گے تو خود اس نتیجے پر پہنچ جاؤ گے کہ میں مجنون نہیں بلکہ اللہ کا پیغام دے کر تم میں بھیجا گیا ہوں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صفا پہاڑ پر چڑھ کر قریشیوں کے ایک ایک قبیلے کا الگ الگ نام لے کر انہیں اللہ کے عذابوں سے ڈرایا اور اسی طرح صبح کر دی تو بعض کہنے لگے کہ دیوانہ ہو گیا ہے ۔ اس پر یہ آیت اتری ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت