فهرس الكتاب

الصفحة 1418 من 6343

اللہ تعالی مقتدر اعلی ہے

فرمان ہے کہ ' اگر تیری زندگی میں ہم ان کفار پر کوئی عذاب اتاریں یا تجھے ان عذابوں کے اتارنے سے پہلے ہی اپنے پاس بلا لیں ، بہر صورت ہے تو یہ سب ہمارے قبضے میں ہی اور ٹھکانا ان کا ہمارے ہاں ہی ہے ، اور ہم پر ان کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں ' ۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گزشتہ رات اسی حجرے کے پاس میرے سامنے میری ساری امت پیش کی گئی } کسی نے پوچھا کہ اچھا موجود لوگ تو خیر لیکن جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئے وہ کیسے پیش کئے گئے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ان کی مٹی کے جسم پیش کئے گئے جیسے تم اپنے کسی ساتھی کو پہچانتے ہو ایسے ہی میں نے انہیں پہچان لیا } ۔ (طبرانی کبیر3055:ضعیف ) ہر امت کے رسول ہیں ۔ جب کسی کے پاس رسول پہنچ گیا پھر حجت پوری ہوگئی ۔ اب قیامت کے دن ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ بغیر کسی ظلم کے حساب چکا دیا جائے گا ۔ جیسے «وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّہَا وَوُضِعَ الْکِتٰبُ وَجِایْءَ بالنَّـبِیّٖنَ وَالشٰہَدَاءِ وَقُضِیَ بَیْنَہُمْ بالْحَــقِّ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ» ۱؎ (39-الزمر:69) والی آیت میں ہے ۔ ہر امت اللہ کے سامنے ہو گی ، رسول موجود ہو گا ، نامہ اعمال ساتھ ہو گا ، گواہ فرشتے حاضر ہوں گے ، ایک کے بعد دوسری امت آئے گی اس شریف امت کا فیصلہ سب سے پہلے ہو گا ۔ گو دنیا میں یہ سب سے آخر میں آئی ہے ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہم سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے ۔ ہماری فیصلے سب سے اول ہوں گے } (صحیح بخاری:6624) ۔ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت و شرف کی وجہ سے یہ امت بھی اللہ کے ہاں شریف و افضل ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت