فهرس الكتاب

الصفحة 1291 من 6343

جد بن قیس جیسے بدتمیزوں کا حشر

جد بن قیس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اس سال نصرانیوں کے جلا وطن کرنے میں تو ہمارا ساتھ دے گا " ۔ تو اس نے کہا: " یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے تو معاف رکھئے میری ساری قوم جانتی ہے کہ میں عورتوں کا بےطرح شیدا ہوں عیسائی عورتوں کو دیکھ کر مجھ سے تو اپنا نفس روکا نہ جائے گا " ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا ۔ اسی کا بیان اس آیت میں ہے کہ اس منافق نے یہ بہانہ بنایا حالانکہ وہ فتنے میں تو پڑا ہوا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑنا جہاد سے منہ موڑنا یہ کیا کم فتنہ ہے ؟ یہ منافق بنو سلمہ قبیلے کا رئیس اعظم تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس قبیلے کے لوگوں سے دریافت فرمایا کہ " تمہارا سردار کون ہے " ؟ تو انہوں نے کہا " جد بن قیس جو بڑا ہی شوم اور بخیل ہے " ۔ آپ نے فرمایا: " بخل سے بڑھ کر اور کیا بری بیماری ہے " ؟ سنو اب سے تمہارا سردار نوجوان سفید اور خوبصورت بشر بن برابن معرور ہے ۔ ۱؎ (طبرانی کبیر:163،164/19:صحیح) جہنم کافروں کو گھیر لینے والی ہے نہ اس سے وہ بچ سکیں نہ بھاگ سکیں نہ نجات پا سکیں ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت