سب سے خراب عادت
لوطیوں کی مشہور بدکرداری سے لوط انہیں روکتے ہیں کہ تم جیسی خباثت تم سے پہلے تو کوئی جانتاہی نہ تھا ۔ کفر ، تکذیب رسول ، اللہ کے حکم کی مخالفت تو خیر اور بھی کرتے رہے مگر مردوں سے حاجت روائی تو کسی نے بھی نہیں کی ۔ دوسری بد خصلت ان میں یہ بھی تھی کہ راستے روکتے تھے ، ڈاکے ڈالتے تھے ، قتل وفساد کرتے تھے مال لوٹ لیتے تھے ، مجلسوں میں علی الاعلان بری باتیں اور لغو حرکتیں کرتے تھے ۔ کوئی کسی کو نہیں روکتا تھا یہاں تک کہ بعض کا قول ہے کہ وہ لواطت بھی علی الاعلان کرتے تھے ۔ گویا سوسائٹی کا ایک مشغلہ یہ بھی تھا ہوائیں نکال کر ہنستے تھے ، مینڈھے لڑواتے ، مرغ لڑواتے اور بدترین برائیاں کرتے تھے اور علی الاعلان مزے لے لے کر گناہ کرتے تھے ۔ حدیث میں ہے کہ { راہ چلتوں پر آوازہ کشی کرتے تھے اور کنکر پتھر پھینکتے رہتے تھے ۔ } ۱؎ (مسند احمد:241/6:ضعیف) سیٹیاں بجاتے تھے کبوتربازی کرتے تھے ، ننگے ہو جاتے تھے ، کفر عنادسرکشی ضد اور ہٹ دھرمی یہاں تک بڑھی ہوئی تھی کہ نبی کے سمجھانے پر کہنے لگے جاجا پس نصیحت چھوڑ جن عذابوں سے ڈرارہا ہے انہیں تو لے آ ۔ ہم بھی تیری سچائی دیکھیں ۔ عاجز آ کر لوط علیہ السلام نے بھی اللہ کے آگے ہاتھ پھیلادئیے کہ اے اللہ ! ان مفسدوں پر مجھے غلبہ دے میری مدد کر ۔