فهرس الكتاب

الصفحة 1750 من 6343

سچائی کا مذاق اڑانا آج بھی جاری ہے

اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ' آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کے غلط رویہ سے رنج وفکر نہ کریں آپ سے پہلے کے پیغمبروں کا بھی یونہی مذاق اڑایا گیا تھا میں نے ان کافروں کو بھی کچھ دیر تو ڈھیل دی تھی آخر بری طرح پکڑ لیا تھا اور نام و نشان تک مٹا دیا تھا ۔ تجھے معلوم ہے کہ کس کیفیت سے میرے عذاب ان پر آئے ؟ اور ان کا انجام کیسا کچھ ہوا ؟ ' جیسے فرمان ہے «وَکَأَیِّن مِّن قَرْیَۃٍ أَمْلَیْتُ لَہَا وَہِیَ ظَالِمَۃٌ ثُمَّ أَخَذْتُہَا وَإِلَیَّ الْمَصِیرُ» ۱؎ (22-الحج:48) ' بہت سی بستیاں ہیں جو ظلم کے باوجود ایک عرصہ سے دنیا میں مہلت لیے رہیں لیکن آخرش اپنی بداعمالیوں کی پاداش میں عذابوں کا شکار ہوئیں ' ۔ بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے " اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو وہ حیران رہ جاتا ہے " ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وَکَذٰلِکَ اَخْذُ رَبِّکَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰی وَہِیَ ظَالِمَۃٌ اِنَّ اَخْذَہٗٓ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ» ۱؎ (11 ۔ ھود:102) ، کی تلاوت کی } ۔ ۱؎ (صحیح بخاری:4686)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت