فهرس الكتاب

الصفحة 633 من 6343

صحبت بد سے بچو

ارشاد ہو رہا ہے کہ جو ایمان لا کر پھر مرتد ہو جائے پھر وہ مومن ہو کر کافر بن جائے پھر اپنے کفر پر جم جائے اور اسی حالت میں مر جائے تو نہ اس کی توبہ قبول نہ اس کی بخشش کا امکان نہ اس کا چھٹکارا ، نہ فلاح ، نہ اللہ اسے بخشے ، نہ راہ راست پر لائے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس آیت کی تلاوت فرما کر فرماتے تھے مرتد سے تین بار کہا جائے کہ توبہ کر لے ۔

پھر فرمایا یہ منافقوں کا حال ہے کہ آخر ان کے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے پھر وہ مومنوں کو چھوڑ کافروں سے دوستیاں گانٹھتے ہیں ، ادھر بظاہر مومنوں سے ملے جلے رہتے ہیں اور کافروں میں بیٹھ کر ان مومنوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں ہم تو انہیں بیوقوف بنا رہے ہیں دراصل ہم تو تمہارے ساتھ ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ ان کے مقصود اصلی کو ان کے سامنے پیش کر کے اس میں ان کی ناکامی کو بیان فرماتا ہے کہ تم چاہتے ہو ان کے پاس تمہاری عزت ہو مگر یہ تمہیں دھوکا ہوا ہے اور تم غلطی کر رہے ہو بگوش ہوش سنو عزتوں کا مالک تو اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک لہ ہے ۔ وہ جسے چاہے عزت دیتا ہے آیت میں ہے «مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّۃَ فَلِلہِ الْعِزَّۃُ جَمِیْعًا» ۱؎ (35-فاطر:10) اورفرمایا «وَلِلہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُولِہِ وَلِلْمُؤْمِنِینَ وَلٰکِنَّ الْمُنَافِقِینَ لَا یَعْلَمُونَ» ۱؎ (63-المنافقون:8) ' یعنی عزت اللہ کے لیے ہے اور اس کے رسول اور مومنوں کا حق ہے ، لیکن منافق بےسمجھ لوگ ہیں ۔ مقصود یہ ہے کہ اگر حقیقی عزت چاہتے ہو تو اللہ کے نیک بندوں کے اعمال اختیار کرو اس کی عبادت کی طرف جھک جاؤ اور اس جناب باری سے عزت کے خواہاں بنو ، دنیا اور آخرت میں وہ تمہیں وقار بنا دے گا ۔

مسند احمد بن حنبل کی یہ حدیث اس جگہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «مَنِ انْتَسَبَ إِلَی تِسْعَۃِ آبَاءٍ کُفَّارٍ یُرِیدُ بِہِمْ عِزًّا ، فَہُوَ عَاشِرُہُمْ فِی النَّارِ» جو شخص فخر و غرور کے طور پر اپنی عزت ظاہر کرنے کے لیے اپنا نسب اپنے کفار باپ دادا سے جوڑے اور نو تک پہنچ جائے وہ بھی ان کے ساتھ دسواں جہنمی ہو گا ۔ } ۱؎ (مسند احمد:134/4،قال الشیخ الألبانی:ضعیف)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت