حکمت سے مراد کتاب اللہ اور حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے
اللہ تعالیٰ رب العالمین اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ ' آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی مخلوق کو اس کی طرف بلائیں ' ۔ حکمت سے مراد بقول امام ابن جریر رحمہ اللہ " کلام اللہ اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے ، اور اچھے وعظ سے مراد جس میں ڈر اور دھمکی بھی ہو کہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں ، اور اللہ کے عذابوں سے بچاؤ طلب کریں " ۔ ہاں یہ بھی خیال رہے کہ اگر کسی سے مناظرے کی ضرورت پڑ جائے تو وہ نرمی اور خوش لفظی سے ہو ۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَا تُجَادِلُوا أَہْلَ الْکِتَابِ إِلَّا بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِینَ ظَلَمُوا مِنْہُمْ» ۱؎ (29-العنکبوت:46) الخ ، ' اہل کتاب سے مناظرے مجادلے کا بہترین طریقہ ہی برتا کرو ' ، الخ ۔ اسی طرح موسیٰ علیہ السلام کو بھی نرمی کا حکم ہوا تھا ۔ دونوں بھائیوں کو یہ کہہ کر فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا کہ «فَقُولَا لَہُ قَوْلًا لَیِّنًا لَعَلَّہُ یَتَذَکَّرُ أَوْ یَخْشَی» ۱؎ (20-طہ:44) ' اسے نرم بات کہنا تاکہ عبرت حاصل کرے اور ہوشیار ہو جائے ' ۔ گمراہ اور ہدایت یاب سب اللہ کے علم میں ہیں ۔ شقی و سعید سب اس پر واضح ہیں ۔ وہاں لکھے جا چکے ہیں اور تمام کاموں کے انجام سے فراغت ہو چکی ہے ۔ ' آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ کی راہ کی دعوت دیتے رہیں لیکن نہ ماننے والوں کے پیچھے اپنی جان ہلاکت میں نہ ڈالئے ۔ آپ ہدایت کے ذمے دار نہیں آپ صرف آگاہ کرنے والے ہیں ، آپ پر پیغام کا پہنچا دینا فرض ہے ۔ حساب ہم آپ لیں گے ۔ «إِنَّکَ لَا تَہْدِی مَنْ أَحْبَبْتَ» ۱؎ (28-القصص:56) ہدایت آپ کے بس کی چیز نہیں کہ جسے محبوب سمجھیں ، ہدایت عطا کر دیں لوگوں کی ہدایت کے ذمے دار آپ نہیں یہ اللہ کے قبضے اور اس کے ہاتھ کی چیز ہے ' ۔