فهرس الكتاب

الصفحة 2045 من 6343

سرگزشت معراج کا تسلسل

اللہ تعالیٰ اپنی ذات کی عزت و عظمت اور اپنی پاکیزگی و قدرت بیان فرماتا ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ اس جیسی قدرت کسی میں نہیں ۔ وہی عبادت کے لائق اور صرف وہی ساری مخلوق کی پرورش کرنے والا ہے ۔ وہ اپنے بندے یعنی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ہی رات کے ایک حصے میں مکہ مکرمہ کی مسجد سے بیت المقدس کی مسجد تک لے گیا ۔ جو ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے زمانے سے انبیاء کرام علیہم السلام کا مرکز رہا ۔ اسی لیے تمام انبیاء علیہم السلام وہیں آپ کے پاس جمع کئے گئے اور آپ نے وہیں ان سب کی امامت کی ۔ جو اس امر کی دلیل ہے کہ امام اعظم اور رئیس مقدم آپ ہی ہیں ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ و علیہم اجمعین ۔

اس مسجد کے اردگرد ہم نے برکت دے رکھی ہے ۔ پھل ، پھول ، کھیت باغات وغیرہ سے ۔ یہ اس لیے کہ ہمارا ارادہ اپنے اس محترم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی زبردست نشانیاں دکھانے کا تھا ۔ جو آپ نے اس رات ملاحظہ فرمائیں ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں ، مومنوں ، کافروں ، یقین رکھنے والوں اور انکار کرنے والوں سب کی باتیں سننے والا ہے اور سب کو دیکھ رہا ہے ۔ ہر ایک کو وہی دے گا ، جس کا وہ مستحق ہے ۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ معراج کی بابت بہت سی حدیثیں ہیں جو اب بیان ہو رہی ہیں ۔

صحیح بخاری شریف میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ معراج والی رات جب کہ کعبۃ اللہ شریف سے آپ کو بلوایا گیا ، آپ کے پاس تین فرشتے آئے ، اس سے پہلے کہ آپ کی طرف وحی کی جائے ۔ اس وقت آپ بیت اللہ شریف میں سوئے ہوئے تھے ۔ ان میں سے ایک جو سب سے آگے تھا اس نے پوچھا کہ یہ ان سب میں سے کون ہیں ؟ درمیان والے نے جواب دیا کہ یہ ان سب میں بہترین ہیں ۔ تو سب سے اخیر والے نے کہا ۔ پھر ان کو لے چلو ۔ بس اس رات تو اتنا ہی ہوا ۔ پھر آب نے انہیں نہ دیکھا ۔

دوسری رات پھر یہ تینوں آئے ۔ اس وقت بھی آپ سو رہے تھے ۔ لیکن آپ کا سونا اس طرح کا تھا کہ آنکھیں سوتی تھیں اور دل جاگ رہا ہوتا ۔ تمام انبیاء کی نیند اسی طرح کی ہوتی ہے ۔ اس رات انہوں نے آپ سے کوئی بات نہ کی ۔ آپ کو اٹھا کر چاہِ زمزم کے پاس لٹا دیا اور آپ کا سینہ گردن تک خود جبرائیل علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے چاک کیا ۔ اور سینے اور پیٹ کی تمام چیزیں نکال کر اپنے ہاتھ سے دھوئیں ۔ جب خوب پاک صاف کر چکے تو آپ کے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا جس میں سونے کا ایک بڑا پیالہ تھا جو حکمت وایمان سے پر تھا ۔ اس سے آپ کے سینے کو اور گلے کی رگوں کو پر کر دیا گیا ۔ پھر سینے کو سی دیا گیا ۔

پھر آپ کو آسمان دنیا کی طرف لے چڑھے ۔ وہاں کے دروازوں میں سے ایک دروازے کو کھٹکھٹایا ۔ فرشتوں نے پوچھا کہ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جبرائیل ۔ پوچھا آپ کے ساتھ کون ہیں ؟ فرمایا میرے ساتھ محمد ہیں صلی اللہ علیہ وسلم پوچھا ۔ کیا آپ کو بلوایا گیا ہے جواب دیا کہ " ہاں " ، سب بہت خوش ہوئے اور مرحبا کہتے ہوئے آپ کو لے گئے ۔

آسمانی فرشتے بھی کچھ نہیں جانتے کہ زمین پر اللہ تعالیٰ کیا کچھ کرنا چاہتا ہے ۔ جب تک کہ انہیں معلوم نہ کرایا جائے ۔ آپ نے آسمان دنیا پر آدم علیہ السلام کو پایا ۔ جبرائیل علیہ السلام نے تعارف کرایا کہ " یہ آپ کے والد آدم علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے " ۔ آپ نے سلام کیا ۔ آدم علیہ السلام نے جواب دیا ، مرحبا کہا اور فرمایا " آپ میرے بہت ہی اچھے بیٹے ہیں " ۔ وہاں دو نہریں جاری دیکھ کر آپ نے جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا کہ " یہ نہریں کیا ہیں " ؟ آپ نے جواب دیا کہ " نیل اور فرات کا عنصر " ۔ پھر آپ کو آسمان میں لے چلے ۔ آپ نے ایک اور نہر دیکھی ، جس پر لؤلؤ اور موتیوں کے بالاخانے تھے ، جس کی مٹی خالص مشک تھے ۔ پوچھا یہ کون سی نہر ہے ؟ جواب ملا کہ یہ نہر کوثر ہے ۔ جسے آپ کے پروردگار نے آپ کے لیے خاص طور پر مقرر کر رکھی ہے ۔

پھر آپ کو تیسرے آسمان پر لے گئے ۔ وہاں کے فرشتوں سے بھی وہی سوال جواب وغیرہ ہوئے ، جو آسمان اول پر اور دوسرے آسمان پر ہوئے تھے ۔ پھر آپ کو چوتھے آسمان پر چڑھایا گیا ۔ ان فرشتوں نے بھی اسی طرح پوچھا اور جواب پایا وغیرہ ۔ پھر پانچویں آسمان پر چڑھائے گئے ۔ وہاں بھی وہی کہا سنا گیا ، پھر چھٹے پر پھر ساتویں آسمان پر گئے ، وہاں بھی بات چیت ہوئی ۔ ہر آسمان پر وہاں کے نبیوں سے ملاقاتیں ہوئیں جن کے نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائے جن میں سے مجھے یہ یاد ہیں کہ دوسرے آسمان میں ادریس علیہ السلام ، چوتھے آسمان میں ہارون علیہ السلام، پانچویں والے کا نام مجھے یاد نہیں ، چھٹے میں ابراہیم علیہ السلام اور ساتویں میں موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام ۔

جب آپ یہاں سے بھی اونچے چلے تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا " اے اللہ میرا خیال تھا کہ مجھ سے بلند تو کسی کو نہ کرے گا " اب آپ اس بلندی پر پہنچے جس کا علم اللہ ہی کو ہے یہاں تک کہ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے اور اللہ تعالیٰ آپ سے بہت نزدیک ہوا ۔ بقدر دو کمان کے بلکہ اس سے کم فاصلے پر ۔ پھر اللہ کی طرف سے آپ کی جانب وحی کی گئی ۔ جس میں آپ کی امت پر ہر دن رات میں پچاس نمازیں فرض ہوئیں ۔ جب آپ وہاں سے اترے تو موسیٰ علیہ السلام نے آپ کو روکا اور پوچھا کیا حکم ملا ؟ فرمایا " دن رات میں پچاس نمازوں کا " ۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا " یہ آپ کی امت کی طاقت سے باہر ہے ۔ آپ واپس جائیں اور کمی کی طلب کیجئے " ۔

آپ نے جبرائیل علیہ السلام کی طرف دیکھا کہ گویا آپ ان سے مشورہ لے رہے ہیں ۔ ان کا بھی اشارہ پایا کہ " اگر آپ کی مرضی ہو تو کیا حرج ہے " ؟ آپ پھر اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف گئے اور اپنی جگہ ٹھہر کر دعا کی کہ " اے اللہ ہمیں تخفیف عطا ہو ۔ میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی " ۔ پس اللہ تعالیٰ نے دس نمازیں کم کر دیں ۔ پھر آپ واپس لوٹے ۔ موسیٰ علیہ السلام نے آپ کو پھر روکا اور یہ سن کر فرمایا ۔ جاؤ اور کم کراؤ ۔ آپ پھر گئے ، پھر کم ہوئیں ، یہاں تک کہ آخر میں پانچ رہ گئیں ۔

موسیٰ علیہ السلام نے پھر بھی فرمایا کہ " دیکھو میں بنی اسرائیل میں اپنی عمر گزار کر آیا ہوں ۔ انہیں اس سے بھی کم حکم تھا لیکن پھر بھی وہ بے طاقت ثابت ہوئے اور اسے چھوڑ بیٹھے ۔ آپ کی امت تو ان سے بھی ضعیف ہے ، جسم کے اعتبار سے بھی اور دل ، بدن ، آنکھ کان کے اعتبار سے بھی ۔ آپ پھر جائیے اور اللہ تعالیٰ سے تخفیف کی طلب کیجئے ۔ آپ نے پھر حسب عادت جبرائیل علیہ السلام کی طرف دیکھا ۔ جبرائیل علیہ السلام آپ کو پھر اوپر لے گئے ، آپ نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ اے اللہ میری امت کے جسم ، دل ، کان آنکھیں اور بدن کمزور ہیں ۔ ہم سے اور بھی تخفیف کر ۔

اسی وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] آپ نے جواب دیا «لبیک وسعدیک» ، فرمایا: سن میری باتیں بدلتی نہیں جو میں نے اب مقرر کیا ہے یہی میں ام الکتاب میں لکھ چکا ہوں ۔ یہ پانچ ہیں پڑھنے کے اعتبار سے اور پچاس ہیں ثواب کے اعتبار سے ۔ جب آپ والپس آئے موسیٰ علیہ السلام نے کہا ، کہو سوال منظور ہوا ؟ آپ نے فرمایا ۔ ہاں کمی ہو گئی یعنی پانچ کا ثواب پچاس کا مل گیا ہر نیکی کا ثواب دس گنا عطا فرمایا جانے کا وعدہ ہو گیا ۔

موسیٰ علیہ السلام نے پھر فرمایا کہ میں بنی اسرائیل کا تجربہ کر چکا ہوں ، انہوں نے اس سے بھی ہلکے احکام کو ترک کر دیا تھا ، آپ پھر جائیے اور کمی طلب کیجئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اے کلیم اللہ میں گیا ، آیا ، اب تو مجھے کچھ شرم سی محسوس ہوتی ہے ۔ آپ نے فرمایا اچھا پھر تشریف لے جائیے ۔ بسم اللہ کیجئے ۔ اب جب آپ جاگے تو آپ مسجد الحرام میں ہی تھے ۔ ۱؎ (صحیح بخاری:7517) صحیح بخاری شریف میں یہ حدیث کتاب التوحید میں بھی ہے اور صفۃ النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی ہے ۔

یہی روایت شریک بن عبداللہ بن ابو نمر سے مروی ہے لیکن انہوں نے اضطراب کر دیا ہے بوجہ اپنی کمزوری حافظہ کم بالکل ٹھیک ضبط نہیں رکھا ۔ ان احادیث کے آخر میں اس کا بیان آئے گا ۔ ان شاءاللہ تعالیٰ ۔ بعض اسے واقعہ خواب بیان کرتے ہیں شاید اس جملے کی بنا پر جو اس کے آخر میں وارد ہے ۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ»

حافظ ابوبکر بیہقی رحمہ اللہ اس حدیث کے اس جملے کو جس میں ہے کہ پھر اللہ تبارک وتعالیٰ قریب ہوا اور اتر آیا بس بقدر دو کمان کے ہو گیا ۔ بلکہ اور نزدیک ۔ شریک نامی راوی کی وہ زیادتی بتاتے ہیں جس میں وہ منفرد ہیں ۔ اسی لیے بعض حضرات نے کہا کہ آپ نے اس رات اللہ عزوجل کو دیکھا ۔

لیکن سیدہ عائشہ ، سیدنا ابن مسعود ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم ان آیتوں کو اس پر محمول کرتے ہیں کہ آپ نے جرئیل علیہ السلام کو دیکھا ۔ یہی زیادہ صحیح ہے اور امام بیہقی رحمہ اللہ کا فرمان بالکل حق ہے اور روایت میں ہے کہ { جب آپ سے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا ۔ وہ نور ہے ، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ اور روایت میں ہے کہ میں نے نور کو دیکھا ہے ۔ } ۱؎ (صحیح مسلم:178)

یہ جو سورۃ النجم میں ہے «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّیٰ» ' یعنی پھر وہ نزدیک ہوا اور اتر آیا ۔ ' ۱؎ (53-النجم:8) اس سے مراد جبرائیل ہیں جیسے کہ ان تینوں بزرگ صحابیوں رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بیان ہے ۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے تو کوئی اس آیت کی اس تفسیر میں ان کا مخالف نظر نہیں آتا ۔

مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میرے پاس براق لایا گیا ۔ جو گدھے سے اونچا اور خچر سے نیچا تھا ، جو ایک ایک قدم اتنی اتنی دور رکھتا تھا ، جتنی دور اس کی نگاہ پہنچے ۔ میں اس پر سوار ہوا وہ مجھے لے چلا ، میں بیت المقدس پہنچا اور اسی کنڈے میں اسے باندھ دیا ، جہاں انبیاء علیہ السلام باندھاہ کرتے تھے ، پھر میں نے مسجد میں جا کر دو رکعت نماز ادا کی ۔ جب وہاں سے نکلا تو جبرائیل علیہ السلام میرے پاس ایک برتن میں شراب لائے اور ایک میں دودھ ۔ میں نے دودھ کو پسند کر لیا ، جبرائیل نے فرمایا تم فطرت تک پہنچ گئے ۔ }

پھر اوپر اولیٰ حدیث کی طرح آسمان اول پر پہنچنا ، اس کا کھلوانا ، فرشتوں کا دریافت کرنا ، جواب پانا ، ہر آسمان پر اسی طرح ہونا ، بیان ہے ۔ پہلے آسمان پر آدم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی ، جہنوں نے مرحبا کہا اور دعائے خیر کی ۔ دوسرے آسمان پر یحییٰ اور عیسیٰ علیہما السلام سے ملاقات ہونے کا ذکر ہے ، جو دونوں آپس میں خالہ زاد بھائی بھائی تھے ۔ ان دونوں نے بھی آپ کو مرحبا کہا اور دعائے خیر دی ، پھر تیسرے آسمان پر یوسف علیہ السلام سے ملاقات ہوئی ، جنہیں آدھا حسن دیا گیا ہے ، آب نے بھی مرحبا کہا ، نیک دعا کی ، پھر چوتھے آسمان پر ادریس علیہ السلام سے ملاقات ہوئی ، جن کی بابت فرمان الٰہی ہے «وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا» ۱؎ (19-مریم:57) ' ہم نے اسے اونچی جگہ اٹھا لیا ہے ۔ '

پانچویں آسمان پر ہارون علیہ السلام سے ملاقات ہوئی ، چھٹے آسمان پر موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی ، ساتویں آسمان پر ابراہیم علیہ السلام کو بیت المعمور سے تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے دیکھا ۔ بیت المعمور میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں ، مگر جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آنے کی ۔ پھر سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے ، جس کے پتے ہاتھی کے کانوں کے برابر تھے اور جس کے پھل مٹکے جیسے ۔

اسے امر رب نے ڈھک رکھا تھا ، اس خوبی کا کوئی بیان نہیں کر سکتا ۔ پھر وحی ہونے کا اور پچاس نمازوں کے فرض ہونے کا اور موسیٰ علیہ السلام کے مشورہ سے واپس جا جا کر کمی کرا کرا کر پانچ تک پہنچنے کا بیان ہے ۔ اس میں ہر بار کے سوال پر پانچ کی کمی کا ذکر ہے ۔ اس میں یہ بھی ہے کہ { آخر میں آپ سے فرمایا کیا جو نیکی کا ارادہ کرے گو وہ عمل میں نہ آئے تاہم اسے ایک نیکی کا ثواب مل جاتا ہے اور اگر کرلے تو دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے اور گناہ کے صرف ارادے سے گناہ نہیں لکھا جاتا اور کر لینے سے ایک ہی گناہ لکھا جاتا ہے- } ۱؎ (صحیح مسلم:162)

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس رات آپ کو اسراء بیت اللہ سے بیت المقدس تک ہوا اسی رات معراج بھی ہوئی اور یہی حق ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔ مسند احمد میں ہے کہ { براق کی لگام بھی تھی اور زین بھی تھی ۔ جب وہ سواری کے وقت کسمسایا تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا کیا کر رہا ہے ؟ واللہ تجھ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ، آپ سے زیادہ بزرگ شخص کوئی سوار نہیں ہوا ۔ پس براق پسینہ پسینہ ہو گیا ۔ } ۱؎ (سنن ترمذی:3131،قال الشیخ الألبانی:صحیح)

سرگزشت معراج

{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب مجھے میرے رب عزوجل کی طرف چڑھایا گیا تو میرا گزر ایسے لوگوں پر ہوا جن کے تانبے کے ناخن تھے ، جن سے وہ اپنے جہروں اور سینوں کو نوچ اور چھیل رہے تھے ۔ میں نے دریافت کیا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ تو جواب دیا گیا کہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے اور ان کی عزت وآبرو کے درپے رہتے تھے ۔ } ۱؎ (سنن ابوداود:4878،قال الشیخ الألبانی:صحیح)

ابوداؤد میں ہے کہ { معراج والی رات جب میں موسیٰ علیہ السلام کی قبر سے گزرا تو میں نے انہیں وہاں نماز میں کھڑا پایا ۔ } ۱؎ (صحیح مسلم:2375)

{ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ سے مسجد اقصٰی کے نشانات پوچھے آپ نے بتانے شروع کئے ہی تھے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کہنے لگے ، آپ بجا ارشاد فرما رہے ہیں اور سچے ہیں ۔ میری گواہی ہے کہ آپ رسول اللہ ہیں ۔ } ۱؎ (مسند ابویعلیٰ:1329:صحیح) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھ رکھا تھا ۔

مسند بزار میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں سویا ہوا تھا کہ جبرائیل علیہ السلام آئے اور میرے دونوں شانوں کے درمیان ہاتھ رکھ دیا ۔ پس میں کھڑا ہو کر ایک درخت میں بیٹھ گیا جس میں پرندوں کے مکان جیسے تھے ایک میں جبرائیل علیہ السلام بیٹھ گئے وہ درخت پھول گیا اور اونچا ہونا شروع ہوا یہاں تک کہ اگر میں چاہتا تو آسمان کو چھو لیتا ۔ میں تو اپنی چادر ٹھیک کر رہا تھا ، لیکن میں نے دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام سخت تواضع اور فروتنی کے عالم میں ہیں ، تو میں جان گیا کہ اللہ کی معرفت کے علم میں یہ مجھ سے افضل ہیں ، آسمان کا ایک دروازہ میرے لیے کھولا گیا ۔ میں نے ایک زبردست عظیم الشان نور دیکھا ، جو حجاب میں تھا اور اس کے اس طرف یاقوت اور موتی تھے ، پھر میری جانب بہت کچھ وحی کی گئی ۔ } ۱؎ (بزار کشف الاستار:47/1)

دلائل بیہقی میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی جماعت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ جبرائیل علیہ السلام آئے اور آپ کی پیٹھ کو انگلی سے اشارہ کیا ، آپ ان کے ساتھ ایک درخت کی جانب چلے جس میں پرندوں کے گھونسلے جیسے تھے الخ اس میں یہ بھی ہے کہ جب ہماری طرف نور اترا تو جبرائیل علیہ السلام تو بیہوش ہو کر گر پڑے الخ پھر میری جانب وحی کی گئی کہ نبی اور بادشاہ بننا چاہتے ہو ؟ یا نبی اور بندہ بننا چاہتے ہو اور جنتی ؟ جبرائیل علیہ السلام نے اسی طرح تواضع سے گرے ہوئے ، مجھے اشارے سے فرمایا کہ تواضع اختیار کرو ، تو میں نے جواب دیا کہ اے اللہ میں نبی اور بندہ بننا منظور کرتا ہوں ۔ } ۱؎ (مجمع الزوائد:18252:ضعیف و مرسل)

اگر یہ روایت صحیح ہو جائے تو ممکن ہے کہ یہ واقعہ معراج کے سوا اور ہو کیونکہ اس میں نہ بیت المقدس کا ذکر ہے نہ آسمان پر چڑھنے کا ۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ»

بزار کی ایک روایت میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا لیکن یہ روایت غریب ہے } ۔ ۱؎ (ضعیف)

ابن جریر میں ہے کہ { براق نے جب جبرائیل کی بات سنی اور پھر وہ آپ کو سوار کرا کر کے لے چلا تو آپ نے راستے کے ایک کنارے پر ایک بڑھیا کو دیکھا پوچھا یہ کون ہے ؟ جواب ملا کہ چلے چلئے ۔ پھر آپ نے چلتے چلتے دیکھا کہ کوئی راستے سے یکسو ہے اور آپ کو بلا رہی ہے پھر آپ آگے بڑھے تو دیکھ کہ اللہ کی ایک مخلوق ہے اور باآواز بلند کہہ رہی ہے «السلام علیک یا اول السلام علیک یا اخر السلام علیک یا حاشر» ، جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا جواب دیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سلام کا جواب دیا ۔ پھر دوبارہ ایسا ہی ہوا ، پھر تیسری مرتبہ بھی یہی ہوا ، یہاں تک کہ آپ بیت المقدس پہنچے ۔ وہاں آپ کے سامنے پانی ، شراب اور دودھ پیش کیا گیا ، آپ نے دودھ لے لیا جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا آپ نے راز فطرت پالیا ۔ اگر آپ پانی کے برتن لے کر پی لیتے تو آب کی امت غرق ہو جاتی اور اگر آپ شراب پی لیتے تو آپ کی امت بہک جاتی ۔ پھر آپ کے لیے آدم علیہ السلام سے لے کر آپ کے زمانے تک کے تمام انبیاء بھیجے گئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی امامت کرائی اور اس رات نماز سب نے آپ کی اقتداء میں پڑھی ۔ پھر جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا راستے کے کنارے جس بڑھیا کو آپ نے دیکھا تو وہ گویا یہ دکھایا گیا کہ دنیا کی عمر اب صرف اتنی ہی باقی ہے جیسے اس بڑھیا کی عمر اور جس کی آواز پر آپ تو جہ کرنے والے تھے وہ دشمن اللہ ابلیس تھا اور جن کی سلام کی آوازیں آب نے سنیں وہ ابراہیم علیہ السلام ، موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام تھے ۔ } ۱؎ (تفسیر ابن جریر الطبری:22020:ضعیف) اس میں بھی بعض الفاظ میں غرابت ونکارت ہے «وَاللہُ اَعْلَمُ» ۔

اور روایت میں ہے کہ { جب میں براق پر جبرائیل علیہ السلام کی معیت میں چلا تو ایک جگہ انہوں نے مجھ سے فرمایا یہیں اتر کے نماز ادا کیجئے جب میں نماز پڑھ چکا تو فرمایا ۔ جانتے ہو کہ یہ کون سی جگہ ہے ؟ یہ طیبہ [ یعنی مدینہ ] ہے یہی ہجرت گاہ ہے ۔ پھر ایک اور جگہ مجھ سے نماز پڑھوائی اور فرمایا " یہ طور سینا ہے ، جہاں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا ۔ پھر ایک اور جگہ نماز پڑھوا کر فرمایا ۔ یہ بیت لحم ہے جہاں عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے پھر میں بیت المقدس پہنچا ۔ وہاں تمام انبیاء علیہم السلام جمع ہوئے ، جبرائیل علیہ السلام نے مجھے امام بنایا ۔ میں نے امامت کی ، پھر مجھے آسمان کی طرف چڑھالے گئے پھر آپ کا ایک ایک آسمان پر پہنچنا ، وہاں پیغمبروں سے ملنا مذکور ہے ۔ فرماتے ہیں جب میں سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچا تو مجھے ایک نوارنی ابر نے ڈھک لیا میں اسی وقت سجدے میں گر پڑا ، پھر آپ پر پچاس نمازوں کا فرض ہونا اور کم ہونا وغیرہ کا بیان ہے ۔ آخر میں موسیٰ علیہ السلام کے بیان میں ہے کہ میری امت پر تو صرف دو نمازیں مقرر ہوئی تھیں لیکن وہ انہیں بھی نہ بجا لائے ۔ آپ پھر پانچ سے بھی کمی چاہنے کے لیے گئے تو فرمایا گیا کہ میں نے تو آسمان و زمین کی پیدائش والے دن ہی تجھ پر اور تیری امت پر یہ پانچ نمازیں مقرر کر دی تھیں ۔ یہ پڑھنے میں پانچ ہیں اور ثواب میں پچاس ہیں ۔ پس تو اور تیری امت اس کی حفاظت کرنا آپ فرماتے ہیں اب مجھے یقین ہو گیا کہ اللہ کا یہی حکم ہے ۔ پھر جب میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو آپ نے مجھے پھر واپس لوٹنے کا مشورہ دیا لیکن چونکہ میں معلوم کر چکا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ حتمی حکم ہے ، اس لیے میں پھر اللہ کے پاس نہ گیا } ۔ ۱؎ (سنن نسائی:451،قال الشیخ الألبانی:صحیح)

ابن ابی حاتم میں بھی معراج کے واقعہ کی مطول حدیث ہے ۔ اس میں یہ بھی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی مسجد کے پاس اس دروازے پر پہنچے جسے باب محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] کہا جاتا ہے وہیں ایک پتھر تھا جسے جبرائیل علیہ السلام نے اپنی انگلی لگائی تو اس میں سوراخ ہو گیا ، وہیں آپ نے براق کو باندھا اور مسجد پر چڑھ گئے ۔

بیچوں بیچ پہنچ جانے کے بعد جبرائیل علیہ السلام نے کہا آپ نے اللہ تعالیٰ سے یہ آرزو کی ہے کہ وہ آپ کو حوریں دکھائے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ، کہا آئیے ، وہ یہ ہیں " سلام کیجئے " وہ صخرہ کے بائیں جانب بیٹھی ہوئی تھیں ، میں نے وہاں پہنچ کر انہیں سلام کیا ، سب نے میرے سلام کا جواب دیا ، میں نے پوچھا ، تم سب کون ہو ؟ انہوں نے کہ ہم نیک سیرت ، خوبصورت ، حوریں ہیں ہم بیویاں ہیں اللہ کے پرہیز گار بندوں کی جو نیک کار ہیں ، جو گناہوں کے میل کچیل سے دور ہیں ، جو پاک کرکے ہمارے پاس لائے جائیں گے پھر نہ نکالے جائیں گے ہمارے پاس ہی رہیں گے ، کبھی جدا نہ ہوں گے ہمیشہ زندہ رہیں گے کبھی نہ مریں گے ۔

میں ان کے پاس سے چلا آیا ۔ وہیں لوگ جمع ہونے شروع ہو گئے اور ذرا سی دیر میں بہت سے آدمی جمع ہو گئے ۔ مؤذن نے اذان کہی تکبیر ہوئی اور ہم سب کھڑے ہو گئے ۔ منتظر تھے کہ امامت کون کرائے گا ؟ جو جبرائیل علیہ السلام نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے آگے کردیا ۔ میں نے انہیں نماز پڑھائی جب فارغ ہوا تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا جانتے بھی ہو کن کو آپ نے نماز پڑھائی ؟ میں نے کہا نہیں فرمایا آپ کے پیچھے آپ کے یہ سب مقتدی اللہ کے پیغمبر تھے ۔ جنہیں اللہ تعالیٰ مبعوث فرما چکا ہے ۔ پھر میرا ہاتھ تھام کر آسمان کی طرف لے چلے ۔ پھر بیان ہے کہ آسمانوں کے دروازے کھلوائے ۔ فرشتوں نے سوال کیا ۔ جواب پاکر دروازے کھولے وغیرہ ۔ پہلے آسمان پر آدم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی انہوں نے فرمایا: " میرے بیٹے اور نیک نبی کو مرحبا ہو " ۔ اس میں چوتھے آسمان پر ادریس علیہ السلام سے ملاقات کرنے کا ذکر بھی ہے ۔ ساتویں آسمان پر ابراہیم علیہ السلام سے ملنے اور ان کے بھی وہی فرمانے کا ذکر ہے جو آدم علیہ السلام نے فرمایا تھا ۔

{ پھر مجھے وہاں سے بھی اونچا لے گئے ۔ میں نے ایک نہر دیکھی ، جس میں لؤلؤ یاقوت اور زبرجد کے جام تھے اور بہترین ، خوش رنگ ، سبز پرند تھے ۔ میں نے کہا یہ تو نہایت ہی نفیس پرند ہیں ۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا ہاں " ان کے کھانے والے ان سے بھی اچھے ہیں " پھر فرمایا معلوم بھی ہے ؟ میں نے کہا نہیں فرمایا " وہ نہر کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطا فرما رکھی ہے " اس میں سونے چاندی کے آبخورے تھے جو یاقوت و زمرد سے جڑاؤ تھے ۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید تھا ۔ میں نے ایک سونے کا پیالہ لے کر پانی بھر کر پیا تو وہ شہد سے بھی زیادہ میٹھا تھا اور مشک سے بھی زیادہ خوشبودار تھا ۔ جب میں اس سے بھی اوپر پہنچا تو ایک نہایت خوش رنگ بادل نے مجھے آگھیرا جس میں مختلف رنگ تھے ، جبرائیل علیہ السلام نے تو مجھے چھوڑ دیا اور میں اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑا ۔ پھر پچاس نمازوں کے فرض ہونے کا بیان ہے ۔ پھر آپ واپس ہوئے ، ابراہیم علیہ السلام نے تو کچھ نہ فرمایا لیکن موسیٰ علیہ السلام نے آپ کو سمجھا بجھا کر واپس طلب تخفیف کے لیے بھیجا ، الغرض اسی طرح آپ کا باربار آنا ، بادل میں ڈھک جانا دعا کرنا ، تخفیفی ہونا ، ابراہیم علیہ السلام سے ملتے ہوئے آنا اور موسیٰ علیہ السلام سے بیان کرنا ہاں تک کہ پانچ نمازوں کا رہ جانا وغیرہ بیان ہے ۔ }

{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پھر مجھے جبرائیل علیہ السلام لے کر نیچے اترے میں نے ان سے پوچھا کہ جس آسمان پر میں پہنچا وہاں کے فرشتوں نے خوشی ظاہر کی ہنس ہنس کر مسکراتے ہوئے مجھ سے ملے بجز ایک فرشتے کے کہ اس نے میرے سلام کا جواب تو دیا مجھے مرحبا بھی کہا لیکن مسکرائے نہیں یہ کون ہیں اس کی وجہ کیا ہے ؟ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا ۔ وہ مالک ہیں ۔ جہنم کے داروغہ ہیں ، اپنے پیدا ہونے سے لے کر آج تک وہ ہنسے ہی نہیں اور قیامت تک ہنسیں گے بھی نہیں کیونکہ ان کی خوشی کا یہی ایک بڑا موقعہ تھا ۔ واپسی میں قریشیوں کے ایک قافلے کو دیکھا جو غلہ لا دے جا رہا تھا ، اس میں ایک اونٹ تھا جس پر ایک سفید اور ایک سیاہ بورا تھا ، جب آپ اس کے قریب سے گزرے تو وہ چمک گیا اور مڑ گیا اور گر پڑا اور لنگڑا ہو گیا اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پہنچا دئے گئے ۔ صبح ہوتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس معراج کا ذکر لوگوں سے کیا ۔ مشرکوں نے جب یہ سنا تو وہ سیدھے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے لو تمہارے پیغمبر صاحب تو کہتے ہیں کہ وہ آج کی ایک ہی رات میں مہینہ بھر کے فاصلے کے مقام تک ہو آئے ۔ آپ نے جواب دیا کہ اگر فی الواقع آپ نے یہ فرمایا ہو تو آپ سچے ہیں ، ہم تو اس سے بھی بڑی بات میں آپ کو سچا جانتے ہیں ۔ ہم مانتے ہیں کہ آپ کو آن کی آن میں آسمان سے خبریں پہنچتی ہیں ۔ مشرکوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ کی سچائی کی کوئی علامت بھی آپ پیش کر سکتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں میں نے راستے میں فلاں فلاں جگہ قریش کا قافلہ دیکھا ۔ ان کا ایک اونٹ جس پر سفید و سیاہ رنگ کے دو بورے ہیں ، وہ ہمیں دیکھ کر بھڑ کا ، گھوما اور چکر کھا کر گر پڑا اور ٹانگ ٹوٹ گئی جب وہ قافلہ آیا لوگوں نے ان سے جا کر پوچھا کہ راستے میں کوئی نئی بات تو نہیں ہوئی ؟ انہوں نے کہا ہاں ہوئی ۔ فلاں اونٹ فلاں جگہ اس طرح گرا وغیرہ ۔ کہتے ہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ کی اسی تصدیق کی وجہ سے انہیں صدیق کہا گیا ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے سوال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں موسیٰ علیہ السلام تو گندم گوں رنگ کے ہیں ، جیسے ازدعمان کے آدمی ہوتے ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام درمیانہ قد کے کچھ سرخی مائل رنگ کے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا ان کے لبوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہیں ۔ } ۱؎ (ضعیف) اس سیاق میں بھی عجائب وغرائب ہیں ۔

مسند احمد میں ہے ، { میں [ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ] حطیم میں سویا ہوا تھا ، اور روایت میں صخر میں سویا ہوا تھا کہ آنے والا آیا ۔ ایک نے درمیان والے سے کہا اور وہ میرے پاس آیا اور یہاں سے یہاں تک چاک کر ڈالا یعنی گلے کے پاس سے ناف تک ۔ پھر مندرجہ بالا احادیث کے مطابق بیان ہے اس میں ہے کہ چھٹے آسمان پر موسیٰ علیہ السلام سے میں نے سلام کیا ۔ آپنے جواب دیا اور فرمایا نیک بھائی اور نیک نبی کو مرحبا ہو ۔ جب میں وہاں سے آگے پڑھ گیا تو آپ رو دئے ۔ پوچھا گیا کیسے روئے ؟ جواب دیا کہ اس لیے کو جو بچہ میرے بعد نبی بنا بھیجا گیا ، اس کی امت بہ نسبت میری امت کے جنت میں زیادہ تعداد میں جائے گی ۔ اس میں ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس چار نہریں دیکھیں دو ظاہر اور دو باطن میں ۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا ، آپ نے مجھے بتلایا کہ باطنی تو جنت کی نہریں ہیں اور ظاہری نیل و فرات ہیں ۔ پھر میری جانب بیت المعمور بلند کیا گیا ۔ پھر میرے پاس شراب کا ، دودھ کا اور شہد کا برتن آیا ۔ میں نے دودھ کا برتن لے لیا ۔ فرمایا: " یہ فطرت ہے جس پر تو ہے اور تیری امت " ۔ اس میں ہے کہ جب پانچ نمازیں ہی رہ گئیں اور پھر بھی کلیم اللہ علیہ السلام نے واپسی کا مشورہ دیا تو آپ نے فرمایا میں تو اپنے رب سے سوال کرتے کرتے شرما گیا ۔ اب میں راضی ہوں اور تسلیم کر لیتا ہوں ۔ } ۱؎ (صحیح بخاری:3207)

اور روایت میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میرے گھر کی چھت کھول دی گئی میں اس وقت مکہ میں تھا الخ ۔ اس میں ہے کہ جب میں جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ آسمان دنیا پر چڑھا تو میں نے دیکھا کہ ایک صاحب بیٹھے ہوئے ہیں ، جن کے دائیں بائیں بری بڑی جماعت ہے وہ داہنی جانب دیکھ کر مسکرا دیتے ہیں اور ہنسنے لگتے ہیں اور جب بائیں جانب نگاہ اٹھتی ہے تو رو دیتے ہیں ۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں ؟ اور ان کے دائیں بائیں کون ہیں ؟ فرمایا یہ آدم علیہ السلام ہیں اور یہ ان کی اولاد ہے ، دائیں جانب والے جنتی ہیں اور بائیں جانب والے جہنمی ہیں ، انہیں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور انہیں دیکھ کر رنجیدہ ۔ } اس روایت میں ہے کہ { ابراہیم علیہ السلام سے چھٹے آسمان پر ملاقات ہوئی ۔ اس میں ہے کہ ساتویں آسمان سے میں اور اونچا پہنچایا گیا مستوی میں پہنچ کر میں نے قلموں کے لکھنے کی آوازیں سنیں ۔ اس میں ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام کے مشورے سے میں طلب تخفیف کے لیے گیا تو اللہ نے آدھی معاف فرما دیں ۔ پھر گیا ، پھر آدھی معاف ہوئی ، پھر گیا تو پانچ مقرر ہوئیں ۔ اس میں ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ سے ہو کر میں جنت میں پہنچایا گیا ۔ جہاں سچے موتیوں کے خیمے تھے اور جہاں کی مٹی مشک خالص تھی ۔} ۱؎ (صحیح بخاری:349) یہ پوری حدیث صحیح بخاری شریف کی کتاب الصلوۃ میں ہے اور ذکر بنی اسرائیل میں بھی ہے اور بیان حج میں اور احادیث انبیاء میں بھی ہے ۔ امام مسلم نے صحیح مسلم کتاب الایمان میں بھی وارد فرمائی ہے ۔ مسند احمد میں { عبداللہ بن ثیقق رحمہ اللہ نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو کم از کم ایک بات تو ضرور پوچھ لیتا آپ نے دریافت فرمایا کیا بات ؟ کہا یہی کہ کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے ؟ تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ تو میں نے آپ سے پوچھا تھا آپ نے جواب دیا کہ میں نے اسے نور دیکھا ۔ میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟ } ۱؎ (صحیح مسلم:291،292) اور روایت میں ہے کہ { وہ نور ہے ، میں اسے کہاں سے دیکھ سکتا ہوں } ؟ ۱؎ (صحیح مسلم:178) ایک اور روایت میں ہے کہ { میں نے نور دیکھا ۔ } ۱؎ (صحیح مسلم:178) بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب میں نے معراج کے واقعہ کا لوگوں سے ذکر کیا اور قریش نے جھٹلایا ، میں اس وقت حطیم میں کھڑا ہوا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس میری نگاہوں کے سامنے لا دیا اور اسے بالکل ظاہر کر دیا ۔ اب جو نشانیاں وہ مجھ سے پوچھتے تھے میں دیکھتا جاتا تھا اور بتاتا جاتا تھا ۔ } ۱؎ (صحیح بخاری:3886) بیہقی میں ہے کہ بیت المقدس میں آپ نے ابراہیم علیہ السلام ، موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کی ۔ اس میں ہے کہ جب واپس آکر لوگوں میں یہ قصہ بیان فرمایا تو بہت سے لوگ فتنے میں پڑ گئے ، جنہوں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی تھی ۔ کفار قریش کی جماعت اسی وقت دوڑی بھاگی ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچی اور کہنے لگے لو اور سنو آج تو تمہارے ساتھی ایک عجیب خبر سنا رہیں ، کہتے ہیں ایک ہی رات میں وہ بیت المقدس سے ہو کر بھی آ گئے ۔ آپ نے فرمایا اگر وہ فرماتے ہیں تو سچ ہے ۔ واقعی ہو آئے ہیں انہوں نے نے کہا یعنی تم اسے بھی مانتے ہو کہ رات کو جائے اور صبح سے پہلے ملک شام سے واپس مکہ پہنچ جائے ؟ آپ نے فرمایا اس بھی زیادہ بڑی بات کو میں اس سے بہت پہلے سے مانتا چلا آیا ہوں ۔ یعنی میں مانتا ہو کہ ان کے پاس آسمان سے خبریں آتی ہیں اور وہ ان تمام میں سچے ہیں ۔ اسی وقت سے آپ کا لقب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہوا ۔ ۱؎ (دلائل النبوہ للبیہقی:359/2:ضعیف)

مسند احمد میں ہے زربی حبیش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، اس وقت آپ معراج کا واقعہ بیان فرا رہے تھے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم چلے یہاں تک کہ بیت المقدس پہنچے ، دونوں صاحب اندر نہیں گئے ، میں نے یہ سنتے ہی کہا ، غلط ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر گئے بلکہ اس رات آپ نے وہاں نماز بھی پڑھی ، آپ نے فرمایا تیرا کیا نام ہے ، میں تجھے جانتا ہوں لیکن نام یاد نہیں پڑتا ۔ میں نے کہا میرا نام زر بن جیش [ رضی اللہ عنہ ] ہے فرمایا تم نے یہ بات کیسے معلوم کر لی ؟ میں نے کہا یہ تو قرآن کی خبر ہے ۔ آپ نے فرمایا جس نے قرآن سے بات کہی اس نے نجات پائی ۔ پڑھئے وہ کون سی آیت ہے تو میں نے «سُبْحَانَ الَّذِی» کی یہ آیت «سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرَیٰ بِعَبْدِہِ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَی الْمَسْجِدِ الْأَقْصَی الَّذِی بَارَکْنَا حَوْلَہُ لِنُرِیَہُ مِنْ آیَاتِنَا ۚ إِنَّہُ ہُوَ السَّمِیعُ الْبَصِیرُ» ۱؎ پڑھی ۔ (17-الإسراء:1) آپ نے فرمایا اس میں کس لفظ کے معنی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز ادا کی ؟ ورنہ آپ نے اس رات وہاں نماز نہیں پڑھی اور اگر پڑھ لتیے تو تم پر اسی طرح وہاں کی نماز لکھ دی جاتی ۔ جس طرح بیت اللہ کی ہے ۔ واللہ وہ دونوں براق پر ہی رہے یہاں تک کہ آسمان کے دروازے ان کے لیے کھل گئے ، پس جنت دوزخ دیکھ لی اور آخرت کے وعدے کی اور تمام چیزین بھی ۔ پھر ویسے کے ویسے ہی لوٹ آئے ۔ پھر آپ خوب ہنسے اور فرمانے لگے مزہ تو یہ ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ وہاں آپ نے براق باندھا کہ کہیں بھاگ نہ جائے ۔ حالانکہ عالم الغیب و الشہادۃ اللہ عالم نے اسے آپ کے لیے مسخر کیا تھا ۔ میں نے پوچھا کیوں جناب یہ براق کیا ہے ؟ کہا ایک جانور ہے سفید رنگ لانبے قد کا جو ایک ایک قدم اتنی اتنی دور رکھتا ہے ، جتنی دور نگاہ کام کرے ۔ } ۱؎ (سنن ترمذی:3147،قال الشیخ الألبانی:حسن) لیکن یہ یاد رہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے محض انکار سے وہ روایتیں جن میں بیت المقدس کی نماز کا ثبوت ہے وہ مقدم ہیں ۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ»

حافظ ابوبکر بیہقی رحمہ اللہ کی کتاب دلائل النبوۃ میں ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معراج کے واقعہ کے ذکر کی درخواست کی تو { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے تو یہی آیت «سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرَیٰ بِعَبْدِہِ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَی الْمَسْجِدِ الْأَقْصَی الَّذِی بَارَکْنَا حَوْلَہُ لِنُرِیَہُ مِنْ آیَاتِنَا ۚ إِنَّہُ ہُوَ السَّمِیعُ الْبَصِیرُ» ۱؎ (17-الإسراء:1) کی تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ میں عشاء کے بعد مسجد میں سویا ہوا تھا ، جو ایک آنے والے نے آ کر مجھے جگایا میں اٹھ بیٹھا لیکن کوئی نظر نہ پڑا ، ہاں کچھ جانور سا نظر آیا ، میں نے غور سے اسے دیکھا اور برابر دیکھتا ہوا مسجد کے باہر چلا گیا تو مجھے ایک عجیب جانور نظر پڑا ہمارے جانوروں میں سے تو اس کے کچھ مشابہ خچر ہے ۔ ہلتے ہوئے اور اوپر کو اٹھے ہوئے کانوں والا تھا ۔ }

{ اس کا نام براق ہے مجھ سے پہلے کے انبیاء بھی اسی پر سوار ہوتے رہے ، میں اس پر سوار ہو کر چلا ہی تھا کہ میری دائیں جانب سے کسی نے آواز دی کہ محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] میری طرف دیکھ میں تجھ سے کچھ پوچھوں گا ۔ لیکن نہ میں نے جواب دیا نہ ٹھیرا ۔ پھر کچھ آگے گیا کہ ایک عورت دنیا بھر کی زینت کئے ہوئے باہیں کھولے کھڑی ہوئی ہے ، اس نے مجھے اسی طرح آواز دی کہ میں کچھ دریافت کرنا چاہتی ہوں لیکن میں نے نہ اس کی طرف التفات کیا ، نہ ٹھیرا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیت المقدس پہنچنا ، دودھ کا برتن لینا اور جبرائیل علیہ السلام کے فرمان سے خوش ہو کر دد دفعہ تکبیر کہنا ہے ۔ پھر جبرائیل علیہ السلام نے پوچھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر فکر کیسے ہے ؟ میں نے وہ دونوں واقعے راستے کے بیان کئے تو آپ نے فرمایا کہ پہلا شخص تو یہود تھا اگر آپ اسے جواب دیتے یا وہاں ٹھہرتے تو آپ کی امت یہود ہو جاتی ۔ دوسرا نصرانیوں کا دعوت دینے والا تھا وہاں ٹھہرتے تو آپ کی امت دنیا کو آخرت پر ترجیح دے کر گمراہ ہو جاتی ۔ پھر میں اور جبرائیل علیہ السلام بیت المقدس میں گئے ہم دونوں نے دو دو رکعتیں ادا کیں پھر ہمارے سامنے معراج لائی گئی جس سے بنی آدم کی روحیں چڑھتی ہیں دنیا نے ایسی اچھی چیز کبھی نہیں دیکھی تم نہیں دیکھتے کہ مرنے والے کی آنکھیں آسمان کی طرف چڑھ جاتی ہیں یہ اسی سیڑھی کو دیکھتے ہوئے تعجب کے ساتھ ۔ ہم دونوں اوپر چڑھ گئے میں نے اسماعیل نامی فرشتے سے ملاقات کی جو آسمان دنیا کا سردار ہے جس کے ہاتھ تلے ستر ہزار فرشتے ہیں ، جن میں سے ہر ایک فرشتے کے ساتھ اس کے لشکری فرشتوں کی تعداد ایک لاکھ ہے ۔ فرمان الٰہی ہے تیرے رب کے لشکروں کو صرف وہی جانتا ہے ۔ جبرائیل علیہ السلام نے اس آسمان کا دروازہ کھلوانا چاہا ، پوچھا گیا کون ہے ؟ کہا جبرائیل [ علیہ السلام ] ، پوچھا گیا آپ کے ساتھ اور کون ہیں ؟ بتلایا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہا گیا کہ کیا ان کی طرف بھیجا گیا تھا ؟ جواب دیا کہ ہاں ، وہاں میں نے آدم علیہ السلام کو دیکھا ، اسی ہیئت میں ، جس میں وہ اس دن تھے جس دن اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کیا تھا ۔ ان کی اصلی صورت پر ۔ ان کے سامنے ان کی اولاد کی روحیں پیش کی جاتی ہیں ۔ نیک لوگوں کی روحوں کو دیکھ کر فرماتے ہیں پاک روح ہے اور جسم بھی پاک ہے ۔ اسے علیین میں لے جاؤ اور بدکاروں کی روحوں کو دیکھ کر فرماتے ہیں ۔ خبیث روح جسم بھی خبیث ہے ۔ اسے سجین میں لے جاؤ ۔ کچھ ہی چلا ہوں گا جو میں نے دیکھا کہ خوان لگے ہوئے ہیں جن پر نہایت نفیس گوشت بھنا ہوا ہے اور دوسری جانب اور خوان لگے ہوئے ہیں جن پر بدبودار سڑا بسا گوشت رکھا ہوا کچھ لوگ ہیں جو عمدہ گوشت کے تو پاس بھی نہیں آتے اور اس سڑے ہوئے گوشت کو کھا رہے ہیں ۔ میں نے پوچھا جرئیل علیہ السلام یہ کون لوگ ہیں ؟ جواب دیا کہ آپ کی امت کے وہ لوگ ہیں جو حلال کو چھوڑ کر حرام کی رغبت کرتے تھے ۔ }

{ پھر ہم دوسرے آسمان پر چڑھے تو میں نے وہاں ایک نہایت ہی حسین شخص کو دیکھا جو اور حسین لوگوں پر وہی فضیلت رکھتا ہے جو فضیلت چاند کو ستاروں پر ہے ، میں نے پوچھا کہ جبرائیل یہ کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا یہ آپ کے بھائی یوسف علیہ السلام ہیں اور ان کے ساتھ ان کی قوم کے کچھ لوگ ہیں ۔ میں نے انہیں سلام کیا جس کا جواب انہوں نے دیا ۔ پھر ہم تیسرے آسمان کی طرف چڑھے ۔ اسے کھلوایا وہاں یحییٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا ۔ ان کے ساتھ ان کی قوم کے کچھ آدمی تھے ، میں نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے مجھے جواب دیا ، پھر میں چوتھے آسمان کی طرف چڑھا ۔ وہاں ادریس علیہ السلام کو پایا جنہیں اللہ تعالیٰ نے بلند مکان پر اٹھا لیا ہے ، میں نے سلام کیا انہوں نے جواب دیا ، پھر پانچویں آسمان کی طرف چڑھا ، وہاں ہارون علیہ السلام تھے ، جنکی آدھی داڑھی سفید تھی اور آدھی سیاہ اور بہت لمبی داڑھی تھی ، قریب قریب ناف تک ۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے سوال کیا انہوں نے بتایا کہ یہ اپنی قوم کے ہر دلعزیز ہارون بن عمران علیہ السلام ہیں ان کے ساتھ ان کی قوم کی جماعت ہے ، انہوں نے بھی میرے سلام کا جواب دیا ، پھر میں چھٹے آسمان کی طرف چڑھا ، وہاں موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے ملاقات ہوئی ، آپ کا گندم گوں رنگ تھا بال بہت تھے ، اگر دو کرتے بھی پہن لیں تو بال ان سے گزر جائیں آپ فرمانے لگے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کے پاس ان سے بڑے مرتبے کا ہوں ، حالانکہ یہ مجھ سے بڑے مرتبے کے ہیں جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کرنے سے مجھے معلوم ہوا کہ آپ موسیٰ بن عمران علیہ السلام ہیں ، آپ کے پاس بھی آپ کی قوم کے لوگ تھے ۔ آپ نے بھی میرے سلام کا جواب دیا ۔ پھر میں ساتویں آسمان کی طرف چڑھا ۔ وہاں میں نے اپنے والد ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام کو اپنی پیٹھ بیت المعمور سے ٹکائے ہوئے بیٹھا دیکھا ۔ آپ بہت ہی بہتر آدمی تھے ۔ دریافت کرنے پر مجھے آپ کا نام بھی معلوم ہوا ۔ میں نے سلام کیا آپ نے جواب دیا ۔ میں نے اپنی امت کو نصفا نصف دیکھا ۔ نصف کے تو سفید بگلے جیسے کپڑے تھے اور نصف کے سخت سیاہ کپڑے تھے ۔ میں بیت المعمور میں گیا ۔ میرے ساتھ ہی سفیدکپڑے والے سب گئے اور دوسرے جن کے خاکی کپڑے تھے وہ سب روک دئیے گئے ہیں وہ بھی خیر پر ۔ پھر ہم سب نے وہاں نماز ادا کی اور وہاں سے سب باہر آئے ۔ اس بیت المعمور میں ہر دن ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں لیکن جو ایک دن پڑھ گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی ۔ }

{ پھر میں سدرۃ المنتہیٰ کی جانت بلند کیا گیا ، جس کا ہر ایک پتہ اتنا بڑا تھا کہ میری ساری امت کو ڈھانک لے ۔ اس میں سے ایک نہر جاری تھی جس کا نام «سلسلبیل» ہے ۔ پھر اس میں سے دو چشمے پھوٹے ہیں ۔ ایک نہر کوثر دوسرا نہر رحمت ۔ میں نے اس میں غسل کیا ۔ میرے اگلے پچھلے سب گناہ معاف ہو گئے ۔ پھر میں جنت کی طرف چڑھایا گیا وہاں میں نے ایک حور دیکھی اس سے پوچھا تو کس کی ہے ؟ اس نے کہا ، زید بن حارثہ [ رضی اللہ عنہ ] کی ۔ وہاں میں نے نہ بگڑنے والے پانی کی اور مزہ متغیر نہ ہونے والے دودھ کی اور بے نشہ لذیذ شراب اور صاف ستھری شہد کی نہریں دیکھیں ۔ اس کے انار بڑے بڑے ڈولوں کے برابر تھے ۔ اس کے پرند تمہارے ان بختی اونٹوں جیسے تھے بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنی نیک بندوں کے لیے وہ نعمتیں تیار کی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں نہ کسی کان نے سنیں نہ کسی انسان کے دل پر ان کا خیال تک گزرا ۔ پھر میرے سامنے جہنم پیش کی گئی ، جہاں غضب الٰہی ، عذاب الٰہی ، ناراضگی الٰہی تھی ، اس میں اگر پتھر اور لوہا ڈالا جائے تو وہ بھی کھا جائے پھر میرے سامنے سے وہ بند کر دی گئی ۔ میں پھر سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچا دیا گیا اور اور مجھے ڈھانپ لیا پس میرے اور اس کے درمیان صرف بقدر دو کمانوں کے فاصلہ رہ گیا بلکہ اور قریب اور سدرۃ المنتہیٰ کے ہر ایک پتے پر فرشتہ آ گیا اور مجھ پر پچاس نمازیں فرض کی گئی اور فرمایا کہ تیرے لیے ہر نیکی کے عوض دس ہیں تو جب کسی نیکی کا ارادہ کرے گا گو بجا نہ لائے تا ہم نیکی لکھ لی جائے گی اور جب بجا بھی لائے تو دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور برائی کے محض ارادے پر تغیر کئے ہوئے کچھ بھی نہ لکھا جائے گا اور اگر کرلی تو صرف ایک ہی برائی شمار ہو گی ۔ پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آنے اور آپ کے مشورے سے جانے اور کمی ہونے کا ذکر ہے جیسے کہ بیان گزر چکا آخر جب پانچ رہ گئیں تو فرشتے نے ندا کی کہ میرا فریضہ پورا ہو گیا ۔ میں نے اپنے بندوں پر تخفیف کر دی اور انہیں ہر نیکی کے بدلے اسی جیسی دس نیکیاں دیں ۔ }

{ موسیٰ علیہ السلام نے واپسی پر اب کی مرتبہ بھی مجھے واپس جانے کا مشورہ دیا لیکن میں نے کہا کہ اب تو جاتے ہوئے مجھے کچھ شرم سی محسوس ہوتی ہے ۔ پھر آپ نے صبح کو مکے میں ان عجائبات کا ذکر کیا کہ میں اس شب بیت المقدس پہنچا ، آسمانوں پر چڑھایا گیا اور یہ یہ دیکھا ۔ اس پر ابوجہل بن ہشام کہنے لگا لو تعجب کی بات سنو ۔ اونٹوں کو مارتے پیٹتے ہم تو بیت المقدس مہینہ بھر میں پہنچیں اور مہینہ بھر ہی واپسی میں لگ جائے ۔ یہ کہتے ہیں دو ماہ مسافت ایک ہی رات میں طے کر آئے ۔ آپ نے فرمایا سنو جاتے وقت میں نے تمہارے قافلے کو فلاں جگہ دیکھا تھا اور آتے وقت مجھے وہ عقبہ میں ملا ۔ سنو اس میں فلاں فلاں شخص ہے ، فلاں اس رنگ کے اونٹ پر ہے اور اس کے پاس یہ یہ اسباب ہے ۔ ابوجہل نے کہا خبریں تو دے رہا ہے دیکھئیے کیسی نکلیں ؟ اس پر ان میں سے ایک شخص نے کہا میں بیت المقدس کا حال تم سب سے زیادہ جانتا ہوں ۔ اس کی عمارت کا حال اس کی شکل و صورت پہاڑ سے اس کی نزدیکی وغیرہ ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حجاب دور کر دئے گئے اور جیسے ہم گھر میں بیٹھے گھر کی چیزوں کو دیکھتے ہیں اسی طرح آپ کے سامنے بیت المقدس کر دیا گیا ۔ آپ فرمانے لگے اس کی بناوٹ اس طرح کی ہے ۔ اس کی ہیئت اس طرح کی ہے ، وہ پہاڑ سے اس قدر نزدیک ہے وغیرہ ۔ اس نے کہا بیشک آپ فرماتے ہیں ۔ پھر اس نے کفار کے مجمع کی طرف دیکھ کر کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بات میں سچے ہیں یا کچھ ایسے ہی الفاظ کہے ۔ } ۱؎ (تفسیر ابن جریر الطبری:22023:ضعیف جدًا) یہ روایت اور بھی بہت سے کتابوں میں ہے ہم نے باوجود اس کی غربت اور نکارت اور ضعف کے اسے اس لیے بیان کیا ہے کہ اس میں اور احادیث کے بہت سے شواہد ہیں اور اس لیے بھی کہ بیہقی میں ہے ۔

یزید بن ابی حکیم کہتے ہیں { میں نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی امت میں سے ایک شخص ہیں جنہیں سفیان ثوری کہا جاتا ہے اس میں کوئی حرج تو نہیں ہے ؟ آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں میں نے پھر اور راویوں کے نام بیان کر کے پوچھا کہ وہ آپ کی حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا ہے کہ آپ کو ایک رات معراج ہوئی آپ نے آسمان میں دیکھا ، الخ ۔ آپ نے فرمایا ہاں ٹھیک ہے ۔ میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی امت کے لوگ آپ کی طرف سے معراج والے واقعے میں بہت سے عجیب وغریب باتیں بیان کرتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا ہاں وہ باتیں قصہ کہنے والوں کی ہیں ۔ } ۱؎ (دلائل النبوۃ للبیہقی:405/2:باطل و لاصل لہ) ترمذی شریف میں ہے سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے معراج کی کیفیت تو بیان فرمائیے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت