عذاب قیامت اور کافر
اللہ تبارک و تعالیٰ فرما رہا ہے کہ اے نبی ! کاش کہ آپ ان کافروں کی قیامت کے دن کی گھبراہٹ دیکھتے ۔ کہ ہر چند عذاب سے چھٹکارا چاہیں گے ۔ لیکن بچاؤ کی کوئی صورت نہیں پائیں گے ۔ نہ بھاگ کر ، نہ چھپ کر ، نہ کسی کی حمایت سے ، نہ کسی کی پناہ سے ۔ بلکہ فوراً ہی قریب سے ہی پکڑ لیے جائیں گے ۔ ادھر قبروں سے نکلے ادھر پھانس لیے گئے ۔ ادھر کھڑے ہوئے ادھر گرفتار کر لیے گئے ۔ یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ قتل و اسیر ہوئے ۔ لیکن صحیح یہی ہے کہ مراد قیامت کے دن کے عذاب ہیں ۔ بعض کہتے ہیں بنو عباس کی خلافت کے زمانے میں مکے مدینے کے درمیان ان لشکروں کا زمین میں دھنسایا جانا مراد ہے ۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے اسے بیان کر کے اس کی دلیل میں ایک حدیث وارد کی ہے جو بالکل ہی موضوع اور گھڑی ہوئی ہے ۔ لیکن تعجب سا تعجب ہے کہ امام صاحب نے اس کا موضوع ہونا بیان نہیں کیا قیامت کے دن کہیں گے کہ ہم ایمان قبول کرتے ہیں اللہ پر ، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر ، اس کے رسولوں پر ایمان لائے ۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرٰٓی اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاکِسُوْا رُءُوْسِہِمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ» ۱؎ (32-السجدۃ:12) الخ ، ' کاش کہ تو دیکھتا جب کہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے سرنگوں کھڑے ہوں گے ۔ اور شرمندگی سے کہہ رہے ہوں گے کہ اللہ ہم نے دیکھ سن لیا ۔ ہمیں یقین آ گیا ۔ اب تو ہمیں پھر سے دنیا میں بھیج دے تو ہم دل سے مانیں گے ۔ ' لیکن کوئی شخص جس طرح بہت دور کی چیز کو لینے کے لیے دور سے ہی ہاتھ بڑھائے اور اس کے ہاتھ نہیں آ سکتی ۔ اسی طرح یہی حال ان لوگوں کا ہے ، کہ آخرت میں وہ کام کرتے ہیں جو دنیا میں کرنا چاہئے تھا ۔ تو آخرت میں ایمان لانا بےسود ہے ۔ اب نہ دنیا میں لوٹائے جائیں نہ اس وقت کی گریہ و زاری توبہ و فریاد ، ایمان و اسلام کچھ کام آئے گا ۔ اس سے پہلے دنیا میں تو منکر رہے نہ اللہ کو مانا نہ رسول پر ایمان لائے نہ قیامت کے قائل ہوئے یونہی جیسے کوئی بن دیکھے اندازے سے ہی نشانے پر تیر بازی کر رہا ہو اسی طرح اللہ کی باتوں کو اپنے گمان سے ہی رد کرتے رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کاہن کہہ دیا کبھی شاعر بتا دیا ۔ کبھی جادوگر کہا اور کبھی مجنون ۔ صرف اٹکل پچو کے ساتھ قیامت کو جھٹلاتے رہے اور بے دلیل اوروں کی عبادت کرتے رہے جنت و دوزخ کا مذاق اڑاتے رہے ۔ اب ایمان اور ان میں حجاب آ گیا ۔ توبہ میں اور ان میں پردہ پڑ گیا ۔ دنیا ان سے چھوٹ گئی یہ دنیا سے الگ ہو گئے ۔ ابن ابی حاتم نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر نقل کیا ہے جسے ہم پورا ہی نقل کرتے ہیں ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنو اسرائیل میں ایک فاتح شخص تھا جس کے پاس مال بہت تھا ۔ جب وہ مر گیا اور اس کا لڑکا اس کا وارث ہوا تو بری طرح نافرمانیوں میں مال لٹانے لگا ۔ اس کے چچاؤں نے اسے ملامت کی اور سمجھایا اس نے غصے میں آ کر سب چیزیں بیچ کر روپیہ لے کر عین شجاجہ کے پاس آ کر ایک محل تعمیر کرا کر یہاں رہنے لگا ۔ ایک روز زور کی آندھی اٹھی جس میں ایک بہت خوبصورت خوشبودار عورت اس کے پاس آ گری ۔ اس نے اس سے پوچھا تم کون ہو ؟ اس نے کہا بنی اسرائیلی شخص ہوں ۔ کہا یہ محل آپ کا ہے ؟ اس نے کہا ہاں ۔ پوچھا آپ کی بیوی بھی ہے ؟ کہا نہیں ۔ کہا پھر تم اپنی زندگی کا لطف کیا اٹھاتے ہو ؟ اب اس نے پوچھا کہ کیا تمہارا خاوند ہے ؟ اس نے کہا نہیں ۔ پھر مجھے قبول کرو اس نے جواب دیا میں یہاں سے میل بھر دور رہتی ہوں کل تم یہاں سے اپنے ساتھ دن بھر کا کھانا پینا لے چلو اور میرے ہاں آؤ ۔ راستے میں کچھ عجائبات دیکھو تو گھبرانا نہیں ۔ اس نے قبول کیا اور دوسرے دن توشہ لے کر چلا ۔ میل دور جا کر ایک نہایت عالی شان محل دیکھا دستک دینے سے ایک خوبصورت نوجوان شخص آیا پوچھا آپ کون ہیں ؟ جواب دیا کہ میں بنی اسرائیلی ہوں کہا کیسے آئے ہیں ؟ کہا اس مکان کی ملکہ نے بلوایا ہے پوچھا راستے میں کچھ ہولناک چیزیں بھی دیکھیں جواب دیا ہاں اور اگر مجھے یہ کہا ہوا نہ ہوتا کہ گھبرانا مت تو میں ہول دہشت سے ہلاک ہو گیا ہوتا ۔ میں چلا ایک چوڑے راستے پر پہنچا تو دیکھا کہ ایک کتیا منہ پھاڑے بیٹھی ہوئی ہے میں گھبرا کر دوڑا تو دیکھا کہ مجھ سے آگے آگے وہ ہے اور اس کے پلے [ بچے ] اس کے پیٹ میں ہیں اور بھونک رہے ہیں ۔ اس جوان نے کہا تو اسے نہیں پائے گا یہ تو آخر زمانے میں ہونے والی ایک بات کی مثال تجھے دکھائی گئی ہے کہ ایک نوجوان بوڑھے بڑوں کی مجلس میں بیٹھے گا اور ان سے اپنے راز کی پوشیدہ باتیں کرے گا ۔ میں اور آگے بڑھا تو دیکھا ایک سو بکریاں جن کے تھن دودھ سے پر ہیں ایک بچہ ہے دودھ پی رہا ہے جب دودھ ختم ہو جاتا ہے اور وہ جان لیتا ہے کہ اور کچھ باقی نہیں رہا تو وہ منہ کھول دیتا ہے گویا ، اور مانگ رہا ہے ۔ اس نوجوان دربان نے کہا تو اسے بھی نہیں پائے گا یہ مثال تجھے بتائی گئی ہے ان بادشاہوں کی جو آخر زمانے میں آئیں گے لوگوں سے سونا چاندی گھسیٹیں گے یہاں تک کہ سمجھ لیں گے اب کسی کے پاس کچھ نہیں بچا تو بھی وہ ظلم و زیادتی کر کے منہ پھیلائے رہیں گے ۔ اس نے کہا میں اور آگے بڑھا تو میں نے ایک درخت نہایت تروتازہ خوش رنگ اور خوش وضع دیکھا میں نے اس کی ایک ٹہنی توڑنی چاہی تو دوسرے درخت سے آواز آئی کہ اے بندہ الٰہی ! میری ڈالی توڑ جا پھر تو ہر ایک درخت سے یہی آواز آنے لگی دربان نے کہا تو اسے بھی نہیں پائے گا ۔
{ اس کے بارے میں یہ آیت «وَحِیْلَ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ مَا یَشْتَہُوْنَ کَمَا فُعِلَ بِاَشْیَاعِہِمْ مِّنْ قَبْلُ اِنَّہُمْ کَانُوْا فِیْ شَکٍّ مٰرِیْبٍ» الخ نازل ہوئی ۔ } ۱؎ (الدر المنشور للسیوطی:716/6:ضعیف) یہ اثر غریب ہے اور اس کی صحت میں بھی نظر ہے ۔ آیت کا مطلب ظاہر ہے کہ کافروں کی جب موت آتی ہے ان کی روح حیات دنیا کی لذتوں میں اٹکی رہتی ہے ۔ لیکن موت مہلت نہیں دیتی اور ان کی خواہش اور ان کے درمیان وہ حائل ہو جاتا ہے ۔ جیسے اس مغرور و مفتون شخص کا حال ہوا ۔ کہ گیا تو عورت ڈھونڈنے کو اور ملاقات ہوئی ملک الموت سے ۔ امید پوری ہونے سے پہلے روح پرواز کر گئی ۔ پھر فرماتا ہے ان سے پہلے کی امتوں کے ساتھ بھی یہی کیا گیا وہ بھی موت کے وقت زندگی اور ایمان کی آرزو کرتے رہے ۔ جو محض بےسود تھی جیسے فرمان عالی شان ہے «فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰہِ وَحْدَہٗ وَکَفَرْنَا بِمَا کُنَّا بِہٖ مُشْرِکِیْنَ» ۱؎ (40-غافر:84-85) الخ ، ' جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو کہنے لگے ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور جس جس کو ہم شریک اللہ بناتے تھے ان سب سے ہم انکار کرتے ہیں لیکن اس وقت ان کے ایمان نے انہیں کوئی فائدہ نہ دیا ان سے پہلوؤں میں بھی یہی طریقہ جاری رہا کفار نفع سے محروم ہی ہیں ۔ ' یہاں فرمایا کہ دنیا میں تو زندگی بھر شک و شبہ میں اور تردد میں ہی رہے ۔ اسی وجہ سے عذاب کے دیکھنے کے بعد ایمان بے کار رہا ۔ قتادہ رحمہ اللہ کا یہ قول آب زر سے لکھنے کے لائق ہے آپ فرماتے ہیں کہ شبہات اور شکوک سے بچو ۔ اس پر جس کی موت آئی وہ قیامت کے دن بھی اسی پر اٹھایا جائے گا اور جو یقین پر مرا ہے اسے یقین پر ہی اٹھایا جائے گا ۔ «وَاللہُ سُبْحَانَہُ وَ تَعَالیٰ الْمُوَفِّق لِلصَّوَابِ» اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے سورۃ سبا کی تفسیر ختم ہوئی ۔