فهرس الكتاب

الصفحة 2112 من 6343

اظہار قدرت و اختیار

رب العالمین لوگوں کو ڈرا رہا ہے کہ جو تری میں تمہیں ڈبو سکتا تھا ، وہ خشکی میں دھنسانے کی قدرت بھی رکھتا ہے ۔ پھر وہاں تو صرف اسی کو پکارنا اور یہاں اس کے ساتھ اوروں کو شریک کرنا یہ کس قدر ناانصافی ہے ؟ «وَأَمْطَرْنَا عَلَیْہَا حِجَارَۃً مِّن سِجِّیلٍ» ۱؎ (11-ہود:82) ' وہ تو تم پر پتھروں کی بارش بھی برسا کر ہلاک کر سکتا ہے ' جیسے لوطیوں پر ہوئی تھی ، جس کا بیان خود قرآن میں کئی جگہ ہے ۔ سورۂ تبارک میں فرمایا کہ « أَأَمِنتُم مَّن فِی السَّمَاءِ أَن یَخْسِفَ بِکُمُ الْأَرْضَ فَإِذَا ہِیَ تَمُورُ * أَمْ أَمِنتُم مَّن فِی السَّمَاءِ أَن یُرْسِلَ عَلَیْکُمْ حَاصِبًا ۖ فَسَتَعْلَمُونَ کَیْفَ نَذِیرِ» ۱؎ (67-الملک:16-17) ' کیا تمہیں اس اللہ کا ڈر نہیں جو آسمانوں میں ہے کہ کہیں وہ تمہیں زمین میں نہ دھنسا دے کہ یکایک زمین جنبش کرنے لگے ۔ ' کیا تمہیں آسمانوں والے اللہ کا خوف نہیں کہ کہیں وہ تم پر پتھر نہ برسا دے ؟ پھر جان لو کہ ڈرانے کا انجام کیا ہوتا ہے ۔ پھر فرماتا ہے کہ اس وقت تم نہ اپنا مددگار پاؤ گے ، نہ دستگیر ، نہ وکیل ، نہ کار ساز ، نہ نگہبان ، نہ پاسبان ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت