فهرس الكتاب

الصفحة 923 من 6343

ہم مزاج ہی دوست ہوتے ہیں

لوگوں کی دوستیاں اعمال پر ہوتی ہیں مومن کا دل مومن سے ہی لگتا ہے گو وہ کہیں کا ہو اور کیسا ہی ہو اور کافر کافر بھی ایک ہی ہیں گو وہ مختلف ممالک اور مختلف ذات پات کے ہوں -ایمان تمناؤں اور ظاہر داریوں کا نام نہیں ۔ اس مطلب کے علاوہ اس آیت کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اسی طرح یکے بعد دیگرے تمام کفار جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ۔ مالک بن دینار کہتے ہیں میں نے زبور میں پڑھا ہے اللہ فرماتا ہے ' میں منافقوں سے انتقام منافقوں کے ساتھ ہی لوں گا پھر سب سے ہی انتقام لوں گا ' ۔ اس کی تصدیق قرآن کی مندرجہ بالا آیت سے بھی ہوتی ہے کہ ' ہم ولی بنائیں گے بعض ظالموں کا ' یعنی ظالم جن اور ظالم انس ۔ پھر آپ نے آیت «وَمَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِکْرِ الرَّحْمٰنِ نُـقَیِّضْ لَہٗ شَیْطٰنًا فَہُوَ لَہٗ قَرِیْنٌ» ۱؎ (43-الزخرف:36) کی تلاوت کی اور فرمایا کہ " ہم سرکش جنوں کو سرکش انسانوں پر مسلط کر دیں گے " ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے { جو ظالم کی مدد کرے گا اللہ اسی کو اس پر مسلط کر دے گا } ۔ ۱؎ (سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:1937) کسی شاعر کا قول ہے ، ؎ «وَمَا مِنْ یَدٍ إِلَّا یَدُ اللہِ فَوْقَہَا» «وَلَا ظَالِمٍ إِلَّا سَیُبلَی بِظَالِمٍ» یعنی ہر ہاتھ ہر طاقت پر اللہ کا ہاتھ اور اللہ کی طاقت بالا ہے اور ہر ظالم دوسرے ظالم کے پنجے میں پھنسنے والا ہے ۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم نے جس طرح ان نقصان یافتہ انسانوں کے دوست ان بہکانے والے جنوں کو بنا دیا اسی طرح ظالموں کو بعض کو بعض کا ولی بنا دیتے ہیں اور بعض بعض سے ہلاک ہوتے ہیں اور ہم ان کے ظلم و سرکشی اور بغاوت کا بدلہ بعض سے بعض کو دلا دیتے ہیں ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت