فهرس الكتاب

الصفحة 1254 من 6343

وعدہ خلاف قوم کو دندان شکن جواب دو

اگر یہ مشرک اپنی قسموں کو توڑ کر وعدہ خلافی اور عہد شکنی کریں اور تمہارے دین پر اعتراض کرنے لگیں تو تم ان کے کفر کے سروں کو توڑ مروڑ دو ۔ اسی لیے علماء نے کہا ہے کہ " جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے ، دین میں عیب جوئی کرے ، اس کا ذکر اہانت کے ساتھ کرے اسے قتل کر دیا جائے " ۔ ان کی قسمیں محض بے اعتبار ہیں ۔ یہی طریقہ ان کے کفر و عناد سے روکنے کا ہے ۔ ابوجہل ، عتبہ ، شیبہ امیہ وغیرہ یہ سب سردارن کفر تھے ۔ ایک خارجی نے سیدنا سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ کو کہا کہ " یہ کفر کے پیشواؤں میں سے ایک ہے " آپ نے فرمایا: " تو جھوٹا ہے میں تو ان میں سے ہوں جنہوں نے کفر کے پیشواؤں کو قتل کیا تھا " ۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " اس آیت والے اس کے بعد قتل نہیں کئے گئے " ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے ۔ صحیح یہ ہے کہ آیت عام ہے گو سبب نزول کے اعتبار سے اس سے مراد مشرکین قریش ہیں لیکن حکمًا یہ انہیں اور سب کو شامل ہے واللہ اعلم ۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شام کی طرف لشکر بھیجا تو ان سے فرمایا کہ " تمہیں ان میں کچھ لوگ ایسے ملیں گے جن کی چندھیا منڈی ہوئی ہو گی تو تم اس شیطانی بیٹھک کو تلوار سے دو ٹکڑے کر دینا واللہ ! ان میں سے ہر ایک کا قتل اور ستر لوگوں کے قتل سے مجھے زیادہ پسند ہے اسلیے کہ فرمان الٰہی ہے کفر کے اماموں کو قتل کرو " ( ابن ابی حاتم )

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت