فهرس الكتاب

الصفحة 4654 من 6343

مسجد حرام بیت اللہ کے اصل حقدار

مشرکین عرب جو قریش تھے اور جو ان کے ساتھ اس عہد پر تھے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کریں گے ان کی نسبت قرآن خبر دیتا ہے کہ دراصل یہ لوگ کفر پر ہیں ، انہوں نے ہی تمہیں مسجد الحرام بیت اللہ شریف سے روکا ہے حالانکہ اصلی حقدار اور زیادہ لائق بیت اللہ کے تم ہی لوگ تھے ، پھر ان کی سرکشی اور مخالفت نے انہیں یہاں تک اندھا کر دیا کہ اللہ کی راہ کی قربانیوں کو بھی قربان گاہ تک نہ جانے دیا ، یہ قربانیاں تعداد میں ستر تھیں جیسے کہ عنقریب ان کا بیان آ رہا ہے ۔ «ان شاءاللہ تعالیٰ» پھر فرماتا ہے کہ سردست تمہیں لڑائی کی اجازت نہ دینے میں یہ راز پوشیدہ تھے کہ ابھی چند کمزور مسلمان مکے میں ایسے ہیں جو ان ظالموں کی وجہ سے نہ اپنے ایمان کو ظاہر کر سکے ہیں ، نہ ہجرت کر کے تم میں مل سکے ہیں اور نہ تم انہیں جانتے ہو ، تو یوں دفعۃً اگر تمہیں اجازت دے دی جاتی اور تم اہل مکہ پر چھاپہ مارتے تو وہ سچے پکے مسلمان بھی تمہارے ہاتھوں شہید ہو جاتے اور بےعلمی میں تم ہی مستحق گناہ اور مستحق دیت بن جاتے ۔ پس ان کفار کی سزا کو اللہ نے کچھ اور پیچھے ہٹا دیا تاکہ ان کمزور مسلمانوں کو چھٹکارا مل جائے اور بھی جن کی قسمت میں ایمان ہے وہ ایمان لے آئیں ۔ اگر یہ مومن ان میں نہ ہوتے تو یقیناً ہم تمہیں ان کفار پر ابھی اسی وقت غلبہ دے دیتے اور ان کا نام مٹا دیتے ۔ جنید بن سبیع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صبح کو میں کافروں کے ساتھ مل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑ رہا تھا لیکن اسی شام کو اللہ تعالیٰ نے میرا دل پھیر دیا میں مسلمان ہو گیا اور اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو کر کفار سے لڑ رہا تھا ، ہمارے ہی بارے میں یہ آیت «وَلَوْلَا رِجَالٌ مٰؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مٰؤْمِنَاتٌ لَّمْ تَعْلَمُوہُمْ» ۱؎ (48-الفتح:25) نازل ہوئی ہے ۔ ہم کل نو شخص تھے سات مرد و عورتیں ۔ ۱؎ (مسند ابویعلیٰ:1560) اور روایت میں ہے کہ ہم تین مرد تھے اور نو عورتیں تھیں ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر یہ مومن ان کافروں میں ملے جلے نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ اسی وقت مسلمانوں کے ہاتھوں ان کافروں کو سخت سزا دیتا یہ قتل کر دئیے جاتے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت