فهرس الكتاب

الصفحة 4387 من 6343

جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرتے ہیں ان کا بے دلیل ہونا بیان فرمایا جا رہا ہے کہ ' کیا ہم نے ان کے اس شرک سے پہلے انہیں کوئی کتاب دے رکھی ہے ؟ جس سے وہ سند لاتے ہوں ۔ ' یعنی حقیقت میں ایسا نہیں جیسے فرمایا « اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْہِمْ سُلْطٰنًا فَہُوَ یَتَکَلَّمُ بِمَا کَانُوْا بِہٖ یُشْرِکُوْنَ» ۱؎ (30-الروم:35) ، یعنی ' کیا ہم نے ان پر ایسی دلیل اتاری ہے جو ان سے شرک کو کہے ؟ ' یعنی ایسا نہیں ہے ۔ پھر فرماتا ہے ' یہ تو نہیں ، بلکہ شرک کی سند ان کے پاس ایک اور صرف ایک ہے اور وہ اپنے باپ دادوں کی تقلید کہ وہ جس دین پر تھے ہم اسی پر ہیں اور رہیں گے۔ ' امت سے مراد یہاں دین ہے اور آیت « إِنَّ ہٰذِہِ أُمَّتُکُمْ أُمَّۃً وَاحِدَۃً وَأَنَا رَ‌بٰکُمْ فَاعْبُدُونِ» ۱؎ (21-الأنبیاء:92) ، میں بھی امت سے مراد دین ہی ہے ساتھ ہی کہا کہ ہم انہی کی راہوں پر چل رہے ہیں پس ان کے بے دلیل دعوے کو سنا کر اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ' یہی روش ان سے اگلوں کی بھی رہی ۔ ان کا جواب بھی نبیوں کی تعلیم کے مقابلہ میں یہی تقلید کو پیش کرنا تھا ۔' اور جگہ ہے آیت «کَذٰلِکَ مَآ اَتَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ» ۱؎ (51-الذاریات:52) یعنی ' ان سے اگلوں کے پاس بھی جو رسول آئے ان کی امتوں نے انہیں بھی جادوگر اور دیوانہ بتایا ۔' پس گویا کہ اگلے پچھلوں کے منہ میں یہ الفاظ بھر گئے ہیں حقیقت یہ ہے کہ سرکشی میں یہ سب یکساں ہیں پھر ارشاد ہے کہ ' گو یہ معلوم کر لیں اور جان لیں کہ نبیوں کی تعلیم باپ دادوں کی تقلید سے بدرجہا بہتر ہے تاہم ان کا برا قصد اور ضد اور ہٹ دھرمی انہیں حق کی قبولیت کی طرف نہیں آنے دیتی ۔ ' پس ایسے اڑیل لوگوں سے ہم بھی ان کی باطل پرستی کا انتقام نہیں چھوڑتے مختلف صورتوں سے انہیں تہ و بالا کر دیا کرتے ہیں ان کا قصہ مذکور و مشہور ہے غور و تامل کے ساتھ دیکھ پڑھ لو اور سوچ سمجھ لو کہ کس طرح کفار برباد کئے جاتے ہیں اور کس طرح مومن نجات پاتے ہیں ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت