فهرس الكتاب

الصفحة 1719 من 6343

سورتوں کے شروع میں جو حروف مقطعات آتے ہیں ان کی پوری تشریح سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں لکھ آئے ہیں ، اور یہ بھی ہم کہہ آئے ہیں کہ جس سورت کے اول میں یہ حروف آئے ہیں وہاں عمومًا یہی بیان ہوتا ہے کہ قرآن کلام اللہ ہے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔ چنانچہ یہاں بھی ان حروف کے بعد فرمایا ' یہ کتاب کی یعنی قرآن کی آیتیں ہیں ' ۔ بعض نے کہا مراد کتاب سے توراۃ انجیل ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں ۔ پھر اسی پر عطف ڈال کر اور صفتیں اس پاک کتاب کی بیان فرمائیں کہ یہ سراسر حق ہے اور اللہ کی طرف سے تجھ پر اتارا گیا ہے ۔ «الْحَقٰ» خبر ہے اس کا مبتدا پہلے بیان ہوا ہے یعنی «الَّذِی أُنزِلَ إِلَیْکَ» لیکن ابن جریر رحمہ اللہ کا پسندیدہ قول یہ ہے کہ واؤ زائد ہے یہ عاطفہ ہے اور صفت کا صفت پر عطف ہے جیسے ہم نے پہلے کہا ہے پھر اسکی شہادت میں شاعر کا قول لائے ہیں ۔ پھر فرمایا کہ ' باوجود حق ہونے کے پھر بھی اکثر لوگ ایمان سے محروم ہیں' ۔ اس سے پہلے گزرا ہے کہ ' گو تو حرص کرے لیکن اکثر لوگ ایمان قبول کرنے والے نہیں ' ۔ ۱؎ (12-یوسف:103) یعنی اس کی حقانیت واضح ہے لیکن ان کی ضد ، ہٹ دھری اور سرکشی انہیں ایمان کی طرف متوجہ نہ ہونے دے گی ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت