مدین والوں پر عذاب الٰہی
جب اللہ کے نبی علیہ السلام اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے تو تھک کر فرمایا " اچھا تم اپنے طریقے پر چلے جاؤ میں اپنے طریقے پر قائم ہوں ۔ تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ رسوا کرنے والے عذاب کن پر نازل ہوتے ہیں اور اللہ کے نزدیک جھوٹا کون ہے ؟ تم منتظر رہو میں بھی انتظار میں ہوں " ۔ آخر ان پر بھی عذاب الٰہی اترا اس وقت نبی اللہ اور مومن بچا دیئے گئے ان پر رحمت رب ہوئی اور ظالموں کو تہس نہس کر دیا گیا ۔ وہ جل بجھے ۔ بے حس و حرکت رہ گئے ۔ ایسے کہ گویا کبھی اپنے گھروں میں آباد ہی نہ تھے ۔ اور جیسے کہ ان سے پہلے کے ثمودی تھے اللہ کی لعنت کا باعث بنے ویسے ہی یہ بھی ہو گئے ۔ ثمودی ان کے پڑوسی تھے اور گناہ اور بدامنی میں انہیں جیسے تھے اور یہ دونوں قومیں عرب ہی سے تعلق رکھتی تھیں ۔