فهرس الكتاب

الصفحة 4522 من 6343

قرآن عظیم کی اہانت سے بچاؤ

مطلب یہ ہے کہ قرآن جو حق کی طرف نہایت صفائی اور وضاحت سے نازل ہوا ہے ۔ اس کی روشن آیتیں تجھ پر تلاوت کی جا رہی ہیں ۔ جسے یہ سن رہے ہیں اور پھر بھی نہ ایمان لاتے ہیں ، نہ عمل کرتے ہیں ، تو پھر آخر ایمان کس چیز پر لائیں گے ؟ ان کے لیے «ویل» ہے اور ان پر افسوس ہے جو زبان کے جھوٹے ، کام کے گنہگار اور دل کے کافر ہیں ، اس کی باتیں سنتے ہوئے اپنے کفر ، انکار اور بدباطنی پر اڑے ہوئے ہیں گویا سنا ہی نہیں ، انہیں سنا دو کہ ان کے لیے اللہ کے ہاں دکھ کی مار ہے ، قرآن کی آیتیں ان کے مذاق کی چیز رہ گئی ہیں ۔ تو جس طرح یہ میرے کلام کی آج اہانت کرتے ہیں کل میں انہیں ذلت کی سزا دوں گا ۔ حدیث شریف میں ہے کہ { قرآن لے کر دشمنوں کے ملک میں نہ جاؤ ایسا نہ ہو کہ وہ اس کی اہانت و بے قدری کریں } ۔ ۱؎ (صحیح بخاری:2990) پھر اس ذلیل کرنے والے کا عذاب کا بیان فرمایا کہ ان خصلتوں والے لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے ۔ ان کے مال و اولاد اور ان کے وہ جھوٹے معبود جنہیں یہ زندگی بھر پوجتے رہے انہیں کچھ کام نہ آئیں گے انہیں زبردست اور بہت بڑے عذاب بھگتنے پڑیں گے ۔ پھر ارشاد ہوا کہ یہ قرآن سراسر ہدایت ہے اور اس کی آیت سے جو منکر ہیں ان کے لیے سخت اور المناک عذاب ہیں ۔ «وَاللہُ سُبْحَانَہُ وَ تَعَالیٰ اَعْلَمُ»

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت