فرمایا کرتے تھے:
(( اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰھُمَّ اَھِلَّہٗ عَلَیْنَا بِالْاَمْنِ وَالْاِیْمَانِ وَالسَّلَامَۃِ وَالِْاسْلَام وَالتَّوْفِیْقِ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی رَبُّنَا وَرَبُّکَ اللّٰہُ ) ) [1]
''اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ! تو اس چاند کو ہمارے لیے امن و ایمان، سلامتی و اسلام اور اپنے محبوب و پسندیدہ اعمال کی توفیق کا پیامبر بنا۔ اے ہلال! ہمارا (۲۴) اور تیرا رب اللہ ہے۔''
137۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص سفر کا ارادہ کر کے نکلے وہ پیچھے رہنے والوں کے لیے یہ دعا کرے:
(( اَسْتَوْدِعُکُمُ اللّٰہَ الَّذِیْ لَا تَضِیْعُ وَدَائِعُہٗ ) ) [2]
''میں تمھیں اس اللہ کے سپرد کرتا ہوں جس کی سپرد داری
[2] سنن النسائي الکبریٰ، رقم الحدیث (۱۰۲۶۹) مسند أحمد، رقم الحدیث (۸۶۹۴) و حسّنہٗ الحافظ۔