گناہ، قرض، قبر کے فتنے، قبر کے عذاب، آگ کے فتنے اور آگ کے عذاب سے اور تونگری و امیری نیز فقر و غربت اور مسیح دجّال کے فتنے سے۔ اے اللہ! میری خطاؤں کو پانی برف اور اولوں سے دھو دے اور میرے دل کو خطاؤں (کے آثار سے ) اس طرح دھودے جس طرح سفید کپڑا مَیل سے دھو دیا جاتا ہے، نیز میرے اور میری خطاؤں کے مابین اتنی دُوری کردے جتنی کہ مشرق و مغرب کے مابین ہے۔''
اِس دُعا کا کچھ حِصّہ اصل کتاب میں نمبر (۶۳) کے تحت ''افتتاحِ نماز کی دُعائیں'' کے زیرِ عنوان بھی گزرا ہے، لیکن وہ دُعا اُسی قدر ہی اپنی جگہ کامل و مستقل ہے۔
116 ۔اِن سب امور سے اللہ کی پناہ مانگنے کی دُعا یہ ہے:
(( اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ التَّرَدِّیْ وَالْھَدَمِ وَالْغَرَقِ