فهرس الكتاب

الصفحة 190 من 379

''یَرْحَمُکَ اللّٰہُ'' (اللہ تم پر رحم کرے) کہے۔ جمائی شیطان کی طرف سے ہے۔ تم میں سے کسی کو جب جمائی آئے تو اسے روکنے کی مقدور بھر کوشش کرے، کیونکہ جب کوئی جمائی لے تو اس سے شیطان ہنستا ہے۔'' [1]

164۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ تم میں سے کوئی جب چھینک مارے تو اسے چاہیے کہ ''اَلحَمْدُ لِلّٰہِ'' کہے اور اس کے بھائی یا دوست کو چاہیے کہ ''یَرْحَمُکَ اللّٰہُ'' کہے۔ اس کے یہ کہنے کے بعد چھینک مارنے والے کو چاہیے کہ یہ کہے:

''یَھْدِیْکُمُ اللّٰہُ وَ یُصْلِحْ بَالَکُمْ'' [2]

''آپ کو اللہ ہدایت دے اور صالح البال کرے۔''

ابو داود کے الفاظ یہ ہیں:

(( اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کُلِّ حَالِِ ) ) [3]

''ہر حال میں ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔''

[2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۲۲۴)

[3] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۵۰۳۳)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت