1۔ وَ الْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهبخاری، العلم، باب فضل من علم و علّم: ۷۹ ]
2۔ لِقَوْمٍ يَّشْكُرُوْنَ: اﷲ تعالیٰ نے پچھلی آیت میں بارش کے ساتھ زمین کو زندہ کرنے کی مثال مردوں کو زندہ کرنے کے لیے بیان فرمائی، اس سے مقصود نصیحت حاصل کرنا ہے، اس لیے وہاں ''لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ '' فرمایا۔ اس آیت کا موضوع وحی الٰہی کا علم، اس پر عمل اور دعوت کا فائدہ اٹھانا ہے جس پر شکر لازم ٹھہرتا ہے، اس لیے یہاں ''لِقَوْمٍ يَّشْكُرُوْنَ '' فرمایا۔