فهرس الكتاب

الصفحة 99 من 6348

اس آیت میں یہود کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لانے کا ایک بہانہ اور اس کا رد ذکر فرمایا گیا ہے، وہ یہ کہ جب انھیں قرآن پر ایمان لانے کے لیے کہا جاتا تو وہ کہتے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں جو ہم پر نازل کیا گیا، یعنی ہم تورات کو مانتے ہیں اور اسی کے مکلف ہیں ، اس کے سوا ہم کوئی چیز نہیں مانتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ اول تو تمھارا قرآن کو نہ ماننا بے معنی بات ہے، کیونکہ وہ تورات کی تصدیق کرنے والا ہے اور جیسا کہ پچھلی آیت میں ذکر ہے کہ تم پہچان بھی چکے ہو کہ یہ وہی رسول ہے جس کی آمد کا تم شدت سے انتظار کر رہے تھے، پھر اگر تمھارا یہی دعویٰ ہے کہ تم صرف تورات کو مانتے ہو تو تم پہلے انبیاء کو کیوں قتل کرتے تھے؟ حالانکہ وہ سب انبیاء تمھیں تورات کی طرف دعوت دینے آئے تھے اور تورات میں تمھیں انبیاء کے قتل سے منع کیا گیا تھا۔ معلوم ہوا کہ تمھارا جھٹلانا محض حسد، بغض اور تکبر کی وجہ سے ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت