فهرس الكتاب

الصفحة 20 من 6348

اب بھی مسلمانوں میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے ساتھ شرک کو اولیاء کا ادب، بدعات کو قربِ الٰہی کا ذریعہ، کفار سے دوستی اور ان کے غلبے کے لیے کوشش کو حالات کا تقاضا قرار دیتے ہیں، مسلمانوں کی نسل کشی کو خاندانی منصوبہ بندی کہتے ہیں ، بدکاری و بے حیائی پھیلاتے ہیں اور اسے عورتوں کے حقوق کا تحفظ قرار دیتے ہیں ۔ ہر برے سے برا کام نام بدل کر خوش نما بنا لیتے ہیں ، کچھ اور لوگوں نے زنا کو متعہ اور حلالہ کا، باجوں گاجوں اور موسیقی کو قوالی اور روح کی غذا کا اور نشہ آور مشروبات کو نبیذ وغیرہ کا نام دے کر حلال کر رکھا ہے۔ یہ سب نفاق کے مختلف مظاہر ہیں ۔

2۔لَا يَشْعُرُوْنَ: دل بیمار ہو تو اچھے برے کا شعور بھی ختم ہو جاتا ہے، پھر آدمی اچھے کو برا اور برے کو اچھا سمجھنے لگتا ہے، فرمایا: { اَفَمَنْ زُيِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَنًا } [ فاطر: ۸ ] '' تو کیا وہ شخص جس کے لیے اس کا برا عمل مزین کر دیا گیا تو اس نے اس کو اچھا سمجھا ( اس شخص کی طرح ہے جو ایسا نہیں ) ؟''

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت