فهرس الكتاب

الصفحة 98 من 6348

یعنی انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لینے کے باوجود کہ یہ وہی نجات دلانے والا ہے جس کے آنے کی وہ دعائیں کرتے تھے، آپ کا انکار کیا، تو اس کی وجہ صرف ان کی یہ ضد، نسلی تعصب اور حسد تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری نبی ان میں کیوں نہیں بھیجا اور اپنے فضل سے ایک ان پڑھ قوم عرب کو کیوں نوازا۔ یہ نہ سوچا کہ اللہ اپنے فضل کا خود مالک ہے، وہ جسے چاہے نواز دے۔ ان کے اس حسد کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ غضب پر غضب لے کر پلٹے۔ پہلے جرائم، جن کا گزشتہ آیات میں ذکر ہے، ان میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کے غضب کا باعث تھا، مثلًا بچھڑے کی عبادت، تورات میں تحریف، رسولوں کا قتل، عیسیٰ علیہ السلام کی تکذیب وغیرہ، اب آخر الزماں نبی کو جھٹلایا تو مزید غضب کا نشانہ بنے، چنانچہ "بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ" کا معنی "پہلا اور دوسرا غضب" نہیں ، بلکہ بار بار اور بڑا غضب ہے، جس کی وجہ سے انھیں "الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ" فرمایا گیا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت