فهرس الكتاب

الصفحة 2280 من 6348

وَ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا....: ''حَنَانًا '' کا عطف '' الْحُكْمَ '' پر ہے، یعنی ہم نے اسے حکم (قوتِ فیصلہ) اور بڑی شفقت اور پاکیزگی عطا کی۔ '' حَنَانًا ''اور '' زَكٰوةً '' پر تنوین تفخیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ''بڑی شفقت اور پاکیزگی'' کیا ہے۔ پاکیزگی سے مراد اخلاق و کردار کی پاکیزگی ہے جو گناہوں سے بچنے سے حاصل ہوتی ہے۔ '' تَقِيًّا '' ''وَقٰي يَقِيْ'' سے ''فَعِيْلٌ'' کے وزن پر ہے، پہلی واؤ کو تاء سے بدل دیا گیا ہے، یعنی اللہ کی نافرمانی سے بہت بچنے والا تھا۔ '' مِنْ لَّدُنَّا '' اپنے پاس سے، یعنی یہ حکم حنان اور زکوٰۃ کسی اور کے پاس ہیں ہی نہیں، صرف ہمارے پاس ہیں اور ہم ہی نے اپنے پاس سے انھیں عطا کیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت