فهرس الكتاب

الصفحة 385 من 6348

یعنی یہود پہلے اقرار کرتے تھے کہ یہ یقینًا نبی ہے لیکن جب ان سے معاملہ ہوا تو وہ منکر ہو گئے۔ (موضح) اور ایسے لوگ بھی اس کا مصداق ہیں جو اسلام سے مرتد ہونے کے بعد موت کے وقت تک کفر پر قائم رہتے ہیں، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ حالت نزع میں اگر یہ لوگ توبہ کریں گے بھی تو ان کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( إِنَّ اللّٰهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ ) ) [ترمذی، الدعوات، باب إن اللہ یقبل التوبۃ....: ۳۵۳۷۔ حسنہ الألبانی] ''یقینًا اللہ تبارک و تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک روح حلق تک نہ پہنچے۔'' نیز دیکھیے سورۂ نساء (۱۸) اور"الضَّآلُّوْنَ"سے مراد ''کامل درجہ کے گمراہ ہیں۔'' (رازی)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت