"اُمْنِيَّةٌ" کا ایک معنی تلاوت بھی آتا ہے، جیسا کہ: { اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّيْطٰنُ فِيْۤ اُمْنِيَّتِهٖ } [ الحج: ۵۲ ] کا ایک ترجمہ تلاوت بھی کیا گیا ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ وہ خالی تلاوت کر سکتے ہیں مگر انھیں اس کے مطلب کی کچھ خبر نہیں ، جیسا کہ آج کل اکثر مسلمان، خواہ حافظِ قرآن ہوں ، محض تلاوت کر سکتے ہیں ، مگر مفہوم سے بالکل بے بہرہ ہیں ۔ ایسا پڑھنا نہ پڑھنے ہی کے برابر ہے، اس لیے ان کے اُمّی ہونے کے خلاف نہیں ۔