فهرس الكتاب

الصفحة 4604 من 6348

1۔ اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهبَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّه2۔ احسن التفاسیر میں ہے: ''حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جو لوگ خالص اللہ کی عبادت کرتے ہیں ان کے پاس یہ سند (بینہ اور دلیل) ہے کہ انسان کو اور انسان کی سب ضرورتوں کو اس طرح اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو لائق تعظیم و عبادت بھی وہی وحدہٗ لا شریک لہ ہے اور جو لوگ اللہ کی عبادت میں غیروں کو شریک کرتے ہیں ان کے پاس کوئی شرعی یا عقلی دلیل نہیں ہے۔ بت پرستی جیسی بری چیز کو شیطان نے ان کی نظر میں اچھا کرکے دکھا دیا ہے، اس لیے وہ لوگ اسی شیطانی وسوسے کے سبب اپنی خواہش پر چلتے ہیں۔ اسی کو '' وَ اتَّبَعُوْا اَهْوَآءَهُمْ '' فرمایا۔'' (مختصراً)

3۔ '' كَمَنْ زُيِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ '' (اس کے لیے اس کے برے اعمال مزین کر دیے گئے) میں برے اعمال مزین کرنے والے کا ذکر مجہول رکھا ہے، کیونکہ آدمی کے لیے اس کے اعمال بد کو مزین کرنے والی بہت سی چیزیں ہوتی ہیں جن میں اس کی خواہش نفس بھی ہے، انسانی اور جنی شیطان بھی اور اس کے اعمالِ بد کی نحوست بھی۔ فعل مجہول (مزین کر دیے گئے) میں مزین کرنے والی یہ سب اشیاء آ جاتی ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت