فهرس الكتاب

الصفحة 221 من 6348

1۔ اس آیت میں اس تاریخی حقیقت کا انکشاف فرمایا ہے کہ انسانیت کی ابتدا کفر و شرک اور عظیم الشان مخلوقات، مثلًا سورج، چاند، آگ، ہوا، پانی، فرشتوں اور نیک انسانوں وغیرہ کی پرستش سے نہیں ہوئی بلکہ خالص توحید سے ہوئی ہے۔ ابتدا میں تمام انسان ایک ہی دین توحید رکھتے تھے اور ان کی ایک ہی ملت تھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:''آدم اور نوح علیہما السلام کے درمیان دس قرن (ایک ہزار سال) تھے۔ یہ سب شریعت حقہ (توحید) پر تھے، پھر (شیطان کے بہکانے سے ان میں شرک آیا اور) ان میں اختلافات پیدا ہوئے، تب اللہ تعالیٰ نے (نوح علیہ السلام اور دوسرے) انبیاء بھیجے۔'' [ طبری و حاکم 442؍2، ح:۳۶۵۴، بسند صحیح] پھر مسلسل انبیاء آتے رہے اور ان پر کتابیں نازل ہوتی رہیں، تاکہ ان کو اختلافات سے نکال کر ہدایت الٰہی کی طرف لایا جائے۔ اس آیت میں "فَبَعَثَ اللّٰهُ" کا عطف محذوف پر ہے یعنی "فَاخْتَلَفُوْا فَبَعَثَ اللّٰہُ" ''پس انھوں نے اختلاف کیا تو اللہ نے نبی بھیجے۔'' (کبیر، ابن جریر) مزید دیکھیے سورۂ یونس (۲۱) ۔

2۔ فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِيْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهبِاِذْنِهبخاری، أحادیث الأنبیاء، باب ما ذکر عن بنی إسرائیل:۳۴۵۶۔ مسلم:۲۶۶۹] آپ کے اس فرمان کے مطابق جب اس امت میں بھی اہل کتاب کی طرح شخصی رائے کی تقلید اور اپنے دھڑے کی بے جا حمایت پر جمود پیدا ہو گیا، لوگوں نے قرآن و حدیث کے بجائے اقوالِ رجال کو دین سمجھنا شروع کر دیا تو امت مختلف فرقوں میں بٹ کر تباہ ہو گئی۔ اس سے صرف وہ لوگ محفوظ رہے جو قرآن و سنت پر براہ راست کار بند رہے اور کسی نئے گروہ کا حصہ نہ بنے۔ [ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ]

3۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب رات کو اٹھتے تو اپنی رات کی نماز کا افتتاح اس دعا سے کرتے: (( اَللّٰھُمَّ رَبَّ جِبْرَائِیْلَ وَ مِیْکَائِیْلَ وَ اِسْرَافِیْلَ، فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ، عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ أَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ، اہْدِنِیْ لِمَا اخْتُلِفَ فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِکَ اِنَّکَ تَہْدِیْ مَنْ تَشَاءُ إِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ) ) [ مسلم، صلٰوۃ المسافرین، باب صلوۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ودعاء ہ باللیل:۷۷۰]

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت