فهرس الكتاب

الصفحة 862 من 6348

وَ اِذَا رَاَيْتَ الَّذِيْنَ يَخُوْضُوْنَ ....: یعنی جب تم ایسے لوگوں کی مجلس دیکھو جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کا مذاق اڑا رہے ہوں، یا عملًا ان کی بے قدری کر رہے ہوں، یا وہ اہل بدعت ہوں جو اپنی بے جا تاویلوں اور تحریفات سے آیات الٰہی کو توڑ مروڑ رہے ہوں، یا ان پر نکتہ چینی کر رہے ہوں اور الٹے سیدھے معنی پہنا کر ان کا مذاق اڑا رہے ہوں، تو اس مجلس سے اس وقت تک کنارہ کرو جب تک وہ دوسری باتوں میں مشغول نہ ہو جائیں اور اگر شیطان کے بھلانے سے اس مجلس میں بیٹھ ہی جاؤ تو یاد آنے کے بعد ان ظالموں کی مجلس میں بیٹھے نہ رہو۔ سورۂ نساء (۱۴۰) میں یہ حکم پہلے بھی گزر چکا ہے، اس میں یہ بھی ہے: {اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْ} ''بے شک اس وقت تم بھی ان جیسے ہو گے۔'' اہل بدعت کی صحبت اس صحبت سے بھی کئی درجے بدتر ہے جس میں گناہوں کا علانیہ ارتکاب ہو رہا ہو، خصوصًا اس شخص کے لیے جو علمی اور ذہنی طور پر پختہ نہ ہو اور بدعتیوں کی غلط تاویلوں کی غلطی سمجھنے کی اہلیت نہ رکھتا ہو۔ ہاں، اہل علم ان کی غلط باتوں پر تنقید کے لیے اور کلمۂ حق بلند کرنے کے لیے ایسی مجلسوں میں شریک ہو سکتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت