فهرس الكتاب

الصفحة 1968 من 6348

وَ مَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ ...: '' نِعْمَةٍ '' (نعمت) نکرہ ہونے کی وجہ سے عام تھی، '' مِنْ '' کے ساتھ عموم کی مزید تاکید ہو گئی کہ جو بھی نعمت تمھارے پاس ہے، یعنی تمھارا وجود، صحت، عافیت، مال، غرض چھوٹی یا بڑی جو بھی نعمت ہے، وہ سب اللہ کی عطا کردہ ہے۔ '' تَجْـَٔرُوْنَ '' ''جَأَرَ يَجْأَرُ جُؤَارًا'' (ف) مدد طلب کرنے کے لیے اونچی آواز نکالنا، گڑ گڑانا۔ اصل میں یہ لفظ جنگلی جانوروں کے چیخنے چلانے کے لیے آتا ہے، جیسا کہ گائے کی آواز کے لیے ''خُوَارٌ '' ، بکری کے لیے '' ثُغَاءٌ'' اونٹ کے لیے '' رُغَاءٌ'' اور بھیڑیے اور کتے کے لیے ''عُوَاءٌ'' آتا ہے۔ '' فَتَمَتَّعُوْا '' سو تم فائدہ اٹھا لو، یہ امر ڈانٹنے کے لیے ہے۔ ان آیات کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۲۱ تا ۲۳) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت