فهرس الكتاب

الصفحة 63 من 6348

اکثر مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ بات کہنے والے وہ ستر آدمی تھے جن کا سورۂ اعراف (۱۵۵) میں ذکر ہے، جنھیں موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ وقت کے لیے چنا تھا، جب موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تو انھوں نے کہا کہ ہم تمھارے کہنے پر ہر گز یقین نہیں کریں گے کہ اللہ تعالیٰ تم سے ہم کلام ہوئے ہیں جب تک ہم خود اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کو نہ دیکھ لیں ، اس پر وہ رجفہ (زلزلہ) اور صاعقہ ( بجلی کی کڑک) سے بے ہوش ہو کر مر گئے، پھر موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے دوبارہ زندہ ہوئے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت