فهرس الكتاب

الصفحة 189 من 6348

وصیت کا بدلنا بڑا گناہ ہے، اس میں وصیت کا چھپانا بھی داخل ہے۔ "جَنَفًا" ''مائل ہونا'' یعنی اگر کسی کی طرف دلی میلان کی وجہ سے وصیت میں اس کی نامناسب طرف داری ہو۔ "اَوْ اِثْمًا" یا ناجائز کام کی وصیت ہو، مثلًا شراب پلانے کی، ناچ کرانے کی، کسی قبر پر چراغاں کرنے یا میلہ اور عرس کرانے کی تو ایسی وصیت کو تبدیل کرنا ضروری ہے۔ ایک تفسیر یہ ہے کہ "جَنَفًا" سے مراد دلی میلان کی بنا پر غلطی یا بھول چوک سے طرف داری ہو جائے اور "اِثْمًا" سے مراد جان بوجھ کر کسی کی حق تلفی ہو۔ "فَاَصْلَحَ بَيْنَهُمْ" یعنی وارثوں کو سمجھا بجھا کر ان میں صلح کرا دے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت