فهرس الكتاب

الصفحة 155 من 6348

1۔ "اَلْحَقُّ" میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے اس کا ترجمہ ''یہ حق'' کیا گیا ہے، یعنی یہ حق جسے یہود و نصاریٰ چھپا رہے ہیں آپ کے رب کی طرف سے ہے، اس لیے آپ کسی شک و شبہ کا شکار نہ ہوں ۔

2۔الْمُمْتَرِيْنَ: یہ ''اِمْتِرَاءٌ '' یعنی باب افتعال سے اسم فاعل کی جمع ہے، مصدر "مِرْيَةٌ" (بمعنی شک) سے فعل مجرد نہیں آتا، بلکہ ہمیشہ باب افتعال سے آتا ہے۔ (ابن عاشور)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت