فهرس الكتاب

الصفحة 584 من 6348

یعنی تم ان منافقین کے بارے میں دو گروہ کیوں ہو گئے، تمھیں تو ان کے متعلق ایک رائے پر متفق ہونا چاہیے۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ احد کے لیے نکلے توکچھ لوگ آپ کا ساتھ چھوڑ کر راستے ہی سے واپس ہو گئے، ان کے بارے میں مسلمانوں کے دو گروہ ہو گئے، ایک گروہ کہنے لگا، آپ انھیں قتل کریں اور دوسرا گروہ اس کے خلاف تھا، تو یہ آیت اتری: { فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنٰفِقِيْنَ فِئَتَيْنِ } اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''یہ طیبہ ہے، یہ گند کو اس طرح دور کر دیتا ہے جیسے آگ چاندی کے گند کو۔'' [ بخاری، التفسیر، باب: فما لکم فی المنافقین…: ۴۵۸۹ ] شوکانی رحمہ اللہ نے فرمایا، یہ حدیث اس آیت کے اسباب نزول میں سب سے زیادہ صحیح ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت