اس سورت کے مدنی ہونے میں کوئی اختلاف نہیں، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: '' یہ سورت سب سے آخر میں نازل ہوئی، لہٰذا اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھو۔'' [ أحمد:6؍188، ح: ۲۵۶۰۲۔ ترمذی: ۳۰۶۳، عن عبد اللّٰہ بن عمرو رضی اللّٰہ عنہما و حسنہ الہلالی فی الاستیعاب ] سورۂ بقرہ کے شروع میں اس کی کچھ فضیلت بیان ہو چکی ہے۔