فهرس الكتاب

الصفحة 549 من 6348

اوپر کی آیت میں یہود کی جہالت بیان کی کہ وہ بتوں کی پوجا کو اللہ واحد کی عبادت پر ترجیح دیتے ہیں، اس آیت میں ان کے بخل اور حسد کو بیان فرمایا۔ بخل تو یہ ہے کہ جو نعمت اللہ تعالیٰ نے کسی کو دی ہو دوسروں سے اسے روک لینا اور حسد یہ ہے کہ جو نعمت اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو دی ہے اس پر جلے بھنے اور آرزو کرے کہ اس سے چھن جائے، پھر خواہ مجھے ملے یا نہ ملے۔ پس حسد اور بخل دونوں میں یہ بات قدرے مشترک ہے کہ دوسروں سے نعمت کو روکنا اور یہ گوارا نہ کرنا کہ اپنی ذات کے سوا دوسروں کو بھی فائدہ پہنچے۔ (کبیر، قرطبی) یہود میں یہ دونوں صفتیں اتم اور اکمل طور پر پائی جاتی تھیں، قرآن نے بتایا کہ یہ مسلمانوں سے حسد کرتے ہیں اور ان کے بخل کا یہ حال ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے ملک و سلطنت میں ان کو کچھ اختیار ہوتا تو کسی کو ''تل برابر'' بھی نہ دیتے۔ "نَقِيْرًا" دراصل اس نقطے کو کہتے ہیں جو گٹھلی کی پشت پر ہوتا ہے اور یہ قلت میں ضرب المثل ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت