فهرس الكتاب

الصفحة 480 من 6348

بخیلوں کا حال اور ان کا کفر بیان کرنے کے بعد یہاں بتایا کہ دنیا کے جس مال و متاع کے جمع کرنے کے لیے انسان بخل کرتا ہے، یہ سب کچھ فانی ہے اور باقی نہ رہنے والا ہے اور آخرت کی زندگی ہی باقی اور ابدی ہے۔ لہٰذا انسان کو چاہیے کہ آخرت کی فکر کرے اور اس میں کامیابی کی کوشش کرتا رہے۔ اور یہ جو فرمایا: '' تمھیں تمہارے اجر قیامت کے دن ہی پورے دیے جائیں گے'' تو اس کے معنی یہ ہیں کہ انسان کو دنیا یا برزخ میں بھی کچھ نہ کچھ اعمال کا بدلہ ملتا ہے، مگر پورا بدلہ یعنی پورا ثواب و عقاب قیامت کے دن ہی ملے گا، اس سے پہلے ممکن نہیں۔ اور دنیا کی زندگی محض "مَتَاعُ الْغُرُوْرِ" (دھوکے کا سامان) ہے، اس کی ظاہری زیب و زینت سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے، اصل کامیابی تو آخرت کی کامیابی ہے۔ [ لاَ عَیْشَ اِلاَّ عَیْشُ الْآخِرَہْ ]

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت