فهرس الكتاب

الصفحة 608 من 6348

"خَطِيْٓئَةً" کا لفظ غیر ارادی گناہ پر بولا جاتا ہے اور اس کے برعکس "اِثْمًا" وہ گناہ ہے جو ارادی طور پر کیا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ خود گناہ کا ارتکاب کرنے کے بعد کسی بے قصور آدمی کو اس میں ملوث کرنے کی کوشش کرنا بہت بڑا گناہ ہے اور کسی بے گناہ شخص پر تہمت لگانے کو بہتان کہا جاتا ہے۔ (قرطبی)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت