فهرس الكتاب

الصفحة 34 من 6348

اس سے پہلے منافقین کی دو مثالیں بیان ہوئی ہیں ، اس کے علاوہ قرآن مجید میں مکھی [ حج: ۷۳ ] مکڑے [ عنکبوت: ۴۱ ] کتے [ اعراف: ۱۷۶ ] اور گدھے [ جمعہ: ۵ ] کو بطور مثال پیش کیا گیا ہے۔ کفار اور منافقین جب قرآن کے چیلنج کا جواب نہ دے سکے تو اعتراض جڑ دیا کہ اللہ تعالیٰ کو ایسی مثالوں کی کیا ضرورت تھی، فرمایا اللہ تعالیٰ کسی بھی چیز کو بطور مثال بیان کر سکتا ہے، یہ کوئی عیب نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے حیا کرے، وہ مثال مچھر کی ہو یا پھر اس کی جو اس سے بھی بڑھ کر حقیر ہو، مثلًا مچھر کا پر یا ایک ذرہ۔ مچھر سے بڑھ کرہونے سے مراد اس سے بڑی چیزیں مثلًا مکھی، مکڑا وغیرہ بھی ہو سکتی ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح بڑی سے بڑی مخلوق اللہ کی قدرت پر اور غیر اللہ کی بے بسی پر دلالت کرتی ہے، اسی طرح چھوٹی سے چھوٹی مخلوق بھی اللہ کی قدرت کا شاہکار ہے۔ پھر بات سمجھانے کے لیے اگر چھوٹی مخلوق کی مثال زیادہ موزوں ہو تو اس میں حیا کی کیا بات ہے ؟ "اَنَّهُ الْحَقُّ" میں "اَنَّهُ" کی خبر "الْحَقُّ" معرفہ آنے کی وجہ سے ترجمہ ''وہی '' کیا گیا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت