فهرس الكتاب

الصفحة 23 من 6348

منافقین دل میں کفر رکھنے اور کفار کا ساتھ دینے کے باوجود مسلمانوں سے ملتے تو "اٰمَنَّا" کہتے اور اسے اہل ایمان کے ساتھ مذاق قرار دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی جوابًا ان کے ساتھ یہی معاملہ فرمایا کہ ان کے متعلق یہ طے کر دیا کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے حصے میں ہوں گے، اس کے باوجود دنیا میں انھیں مسلمان قرار دیا اور ان کی رسی دراز کر دی، تاکہ وہ سرکشی میں زیادہ سے زیادہ بڑھ جائیں ، فرمایا: { اِنَّمَا نُمْلِيْ لَهُمْ لِيَزْدَادُوْۤا اِثْمًا } [ آل عمران: ۱۷۸ ] ''ہم انھیں صرف اس لیے مہلت دے رہے ہیں کہ وہ گناہ میں بڑھ جائیں ۔'' وہ ان کا مذاق تھا یہ اللہ تعالیٰ کا مذاق ہے۔ قرآن مجید میں ایسے الفاظ مقابلے میں استعمال ہوئے ہیں جو ابتداءً کم ہی استعمال ہوتے ہیں ۔ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے مذاق کرنے میں وہ معاملہ بھی شامل ہے جو قیامت میں منافقین کو پیش آئے گا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جاتے ہوئے ان کے نور سے راستہ دیکھتے ہوئے جا رہے ہوں گے کہ یکایک ایک دیوار کے ذریعے سے جہنم کی طرف دھکیل دیے جائیں گے۔ [ ديكهيے حديد: ۱۲ تا ۱۵ ]

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت