فهرس الكتاب

الصفحة 232 من 6348

بعض لوگ غصے میں آکر کسی نیک کام کے نہ کرنے کی قسم کھا لیتے اور پھر اس قسم کو نیکی سے باز رہنے کے لیے آڑ بنا لیتے۔ اس آیت میں اس قسم کے لوگوں کو ہدایت دی جا رہی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے نام کی قسمیں اس لیے نہ کھاؤ کہ نیکی، پرہیز گاری اور لوگوں میں صلح کرانے جیسے نیک کاموں سے باز رہنے کا بہانہ ہاتھ آ جائے، کیونکہ غلط قسم پر اڑے رہنا گناہ ہے۔ دیکھیے سورۂ نور (۲۲) ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے عبد الرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:''جب تم کسی بات پر قسم کھا لو، پھر دیکھو کہ دوسرا کام اس سے بہتر ہے تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور وہ کام کرو جو بہتر ہے۔'' [ بخاری، الأیمان والنذور، باب قول اللہ تعالٰی: {لا یؤاخذکم اللہ....} :۶۶۲۲ ] قسم کے کفارے کے لیے دیکھیے سورۂ مائدہ (۸۹) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت