فهرس الكتاب

الصفحة 1168 من 6343

اے رسول ! (علیہ السلام) مال غنیمت کا حکم تجھ سے پوچھتے ہیں

شان نزول (یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ) جنگ بدر چونکہ پہلی جنگ تھی اس سے پہلے کوئی لڑائی ایسی کامیابی سے نہ ہوئی تھی کہ مال غنیمت ہاتھ آیا ہوتا اس لئے اس کی تقسیم کے متعلق صحابہ میں تکرار ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سوال ہوا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ معالم

کہ اس مال کو جو جنگ میں غالب کو مغلوب کی شکست کی حالت میں حاصل ہوتا ہے کس طرح تقسیم کریں تو ان سے کہہ دے کہ اصل میں مال غنیمت تو اللہ تعالیٰ کے حکم میں اور اللہ تعالیٰ کے اذن سے رسول کے قبضہ میں ہے پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو جس طرح وہ تم کو اس بارے میں حکم دے گا اسی پر تم نے عمل کرنا چنانچہ اس نے بتلایا ہے کہ مال غنیمت سے پانچواں حصہ نکال کر باقی لشکریوں پر بانٹ دو پس تم اسی طرح کرو اور آپس میں جھگڑا اور فساد نہ کرو بلکہ صلح سے رہو اور اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی تابعداری کرتے رہو اگر تم ایماندار ہو تو ایسا ہی کرو اس سے سرمو تفاوت نہ کرو کیونکہ ایماندار بس وہی لوگ ہیں جن کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر سے کانپ جاتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کا ذکر سن کر اس کی عظمت اور شہنشاہی کا تصور ان کے دلوں پر ایسا اثر کرتا ہے کہ دنیا کی کوئی چیز ان کی نظروں میں نہیں سماتی اور جب اللہ تعالیٰ کے حکم ان کو سنائے جاتے ہیں تو ان کا ایمان اور بھی تازگی میں بڑھتا ہے اور احکام الٰہی دل لگا کر سنتے اور پڑھتے ہیں اور بڑی بات ان میں یہ ہے کہ اپنے پروردگار واحد لاشریک ہی پر بھروسہ کرتے ہیں اور سوا اس کے اپنی حاجات طلبی میں کسی سے سروکار نہیں رکھتے یعنی وہ لوگ جو نماز پنجگانہ بروقت پابندی جماعت ادا کرتے ہیں اور ہمارے دئیے میں سے کچھ نہ کچھ تھوڑا بہت نیک کاموں میں فی سبیل اللہ تعالیٰ خرچ بھی کرتے ہیں سچ پوچھو تو یہی سچے مومن ہیں انہی کے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند درجے ہیں اور گناہوں پر بخشش اور عزت کی روزی مقرر ہے تم اللہ تعالیٰ کے وعدوں کی نسبت خلف کا ہرگز وہم نہ کیجئیو ضرور بالضرور پورے ہوں گے

یَسْئَلُوْنَکَ اس حاشیے میں ہم جہاد کی مختصر سی تحقیق اور آنحضرت فداہ روحی علیہ افضل الصلوٰۃ والسلام کے غزوات کی مجمل تاریخ بتلائیں گے اور کسی قدر مخالفین اسلام اور سرسید احمد خان مرحوم کے شبہات کا جواب بھی دیں گے۔

جلد اول میں ہم بتلا آئے ہیں کہ جہاد بانی مبانی حقیقت میں مشرکین عرب اور ان کے مخلص دوست بلکہ بھائی بند یہود و نصاریٰ ہی تھے۔ جنہوں نے آنحضرت اور آپ کے خادموں کو ناحق از حد فزوں ایسی تکلیفیں دیں جن سے غیرت اللہ تعالیٰ کو جوش آیا تو اس نے مسلمانوں کو بھی ہاتھ اٹھانے کی اجازت بخشی چنانچہ اُذِن لِلَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا وَاَنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِھِمْ لَقَدِیْرٌ جن لوگوں (مسلمانوں) کو ہر طرف سے مارا جاتا ہے ان کو بھی بوجہ اس کے کہ وہ مظلوم ہیں مقابلہ کی اجازت دی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی مدد پر قادر ہے۔ ان معنی کی طرف اشارہ بلکہ صراحت ہے۔ اس مضمون میں ہم بتلائیں گے کہ جہاد جس کو ہمارے مخالفوں نے ایک ھوَّا سمجھ رکھا ہے خود ان کی کتابوں میں بھی بکثرت پایا جاتا ہے بڑے بڑے اور سخت سے سخت مخالف اس جہاد کے دو گروہ ہیں عیسائی۔ آریہ عیسائیوں کی کتابوں میں جس قسم کے جہاد کا ذکر ہے اس کے مقابلہ میں اسلامی جہاد اللہ تعالیٰ کی رحمت اور سراسر نعمت عظمیٰ ہے غور سے پڑھو۔

پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو خطاب کر کے فرمایا کہ اہل مدیان سے بنی اسرائیل کا انتقام لیں اور تو بعد اس کے اپنے لوگوں سے مل جائے گا تب موسیٰ نے لوگوں کو فرمایا کہ بعضے تم میں سے لڑائی کے لئے تیار ہوویں اور مدیانیوں کا سامنا کرنے جاویں تاکہ اللہ تعالیٰ کے لئے مدیان سے بدلہ لیں اسرائیل کے سب فرقوں میں سے ہر ایک فرقے پیچھے ہزار جنگ کرنے کو بھیجو۔ سو ہزاروں بنی اسرائیل میں سے ہر فرقے کے ایک ایک ہزار حاضر کئے گئے۔ یہ سب جو لڑائی کے لئے ہتھیار بند تھے بارہ ہزار ہوئے موسیٰ نے ان کو لڑائی پر بھیجا ایک ایک فرقہ کے پچھے ایک ہزار کو انہیں اور الیعزر کاہن کے بیٹے فیخاس کو پاک ظروف کے ساتھ بھیجا اور پھونکنے کے نرسنگے اس کے ہاتھ میں تھے اور انہوں نے مدیانیوں سے لڑائی کی جیسا اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو فرمایا تھا اور سارے مردوں کو قتل کیا اور انہوں نے ان مقتولوں کے سوا ادی اور رقم اور صور اور ربع کو جو مدیان کے پانچ بادشاہ تھے جان سے مارا اور بعور کے بیٹے بلعام کو بھی تلوار سے قتل کیا اور بنی اسرائیل نے مدیان کی عورتوں اور ان کے بچوں کو اسیر کیا اور ان کے مواشی اور بھیڑ بکری اور مال و اسباب سب کچھ لوٹ لیا اور ان کے سارے شہروں کو جن میں وہ رہتے تھے اور ان کے سب قلعوں کو پھونک دیا اور انہوں نے ساری غنیمت اور سارے اسیر انسان اور حیوان لئے اور وہ قیدی اور غنیمت اور لوٹ موسیٰ اور الیعزر کاہن اور بنی اسرائیل کی ساری جماعت کے پاس خیمہ گاہ موآب کے میدانوں میں یرون کے کنارے جو یریحو کے مقابل ہے لائے۔

تب موسیٰ اور الیعزر کاہن اور جماعت کے سارے سردار ان کے استقبال کے لئے خیمہ گاہ سے باہر گئے اور موسیٰ لشکر کے رئیسوں پر اور ان پر جو ہزاروں کے سردار تھے اور ان پر سینکڑوں کے سردار تھے جو جنگ کر کے پھرے غصہ ہوا اور ان کو کہا کہ کیا تم نے سب عورتوں کو جیتا رکھا دیکھو یہ بلعام کے کہنے سے فغور کی بابت اللہ تعالیٰ کے آگے اسرائیل کے گنہگار ہونے کا باعث ہوئیں چنانچہ اللہ تعالیٰ کی جماعت میں وبا آئی۔ سو تم ان بچوں کو جتنے لڑکے ہیں سب کو قتل کرو اور ہر ایک عورت کو جو مرد کی صحبت سے واقف تھیں جان سے مارو۔ لیکن وہ لڑکیاں جو مرد کی صحبت سے واقف نہیں ہوئیں ان کو اپنے لئے زندہ رکھو اور تم سات دن تک خیمہ گاہ سے باہر رہو جس کسی نے آدمی کو مارا ہو اور جس کسی نے لاش کو چھوڑا ہو وہ آپ کو اور اپنے قیدیوں کو تیسرے دن اور ساتویں دن میں پاک کرے تم اپنے سب کپڑے اور سب چمڑے کے برتن اور سب بکری کے بالوں کی بنی ہوئی چیزیں اور کاٹھ کے سب برتن پاک کرو تب الیعزر کاہن نے ان سپاہیوں کو جو جنگ پر گئے تھے کہا کہ شریعت کا حکم اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو فرمایا سو یہ ہے فقط سونا' روپا' پیتل' لوہا' رانگا' سیسہ اور وہ سب چیزیں جو آگ میں ڈالی جاتی ہیں تم انہیں آگ میں ڈالو اور وہ پاک ہوں گی پھر انہیں جدائی کے پانی سے بھی پاک کرو پھر وہ چیزیں جو آگ میں نہیں ڈالی جاتیں تم انہیں اس پانی میں ڈالو اور تم ساتویں دن اپنے کپڑے دھوئو بعد ازاں خیمہ گاہ میں داخل ہوئو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو خطاب کر کے فرمایا کہ تو اور الیعزر کاہن اور جماعت کے سردار مل کے سارے انسان اور حیوانوں کا جو لوٹ میں آتے ہیں شمار کروائو اور لوٹ کر برابر تقسیم کر کے اوہا ملکر جنہوں نے اس جنگ کو اپنے ذمہ میں رکھا اور میدان بھی پکڑا اور اوہا ساری جماعت کو دے اور ان جنگی مردوں کو گئے تھے اللہ تعالیٰ کے لئے ایک حصہ لے ہر پانچسو جاندار پیچھے ایک جاندار خواہ انسان ہوں خواہے گائے بیل خواہے گدھے ہوں خواہ بھیڑ بکری۔ ان لوگوں کے آدھے سے لے اور الیعزر کاہن کو دے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے اٹھانے کی قربانی ہو اور بنی اسرائیل کے آدھے سے جو انہوں نے پایا کیا انسان کیا گائے بیل کیا گدھے کیا بھیڑ بکری یعنی سب اقسام جانوروں کی پچاس پچاس پیچھے ایک ایک لے اور انہیں لاویوں کو دے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مسکن کی محافظت کرتے ہیں۔" (گنتی 31 باب 1 سے 30 تک)

اس کے علاوہ اور بھی کئی ایک مقام ہیں جو بخوف طوالت چھوڑ دیتے ہیں آریوں کے حال پر زیادہ افسوس ہے کیونکہ عیسائیوں نے تو توریت اور دیگر کتب عہد عتیق کو حضرت مسیح کے آنے سے متروک کردی ہے آریوں نے تو وید سے وہ برتائو نہیں کیا بلکہ یہ تو وید بھگوان کی منادی تمام دنیا میں کرنا چاہتے ہیں اور وید کے مقابلہ پر پرانوں وغیرہ متبرک کتب مذہب ہنود کو بے نقط سناتے ہیں اور وید پر ہی اطاعت منحصر رکھتے ہیں مگر عملی پہلو ان کا بھی وہی ہے جو ان کے استادوں (عیسائیوں) کا ہے۔ وید بھگوان اور دیگر کتب معتبرہ آریہ قوم بڑے زور سے جہاد کی تعلیم دیتی ہیں مال غنیمت کی تقسیم (جس کا اس آیت میں ذکر ہے) کی نسبت آریوں اور ہندوئوں کو وید کی پہلی ہدایت اسلحہ جنگ کی درستی کے متعلق ہے جو رگوید منڈل اول سوکت 39 منتر 2 میں مرقوم ہے۔

" اے فرمانبردار لوگو ! تمہارے اسلحہ آتشیں وغیرہ از قسم توپ تفنگ تیر تلوار وغیرہ ششتر مخالفوں کو مغلوب کرنے اور ان کو روکنے کے لئے قابل تعریف اور باستحکام ہوں تمہاری فوج مستوجب توصیف ہوتا کہ تم لوگ ہمیشہ فتحیاب ہوتے رہو۔ "

ایک مقام پر دعایوں مرقوم ہے۔

" میں اس محافظ کائنات صاحب جاہ و جلال نہایت زور آور اور فاتح کل کائنات کے راجا قادر مطلق اور سب کو قوت عطا کرنے والے پر میشور کو جس کے آگے تمام زبربہادر سراطاعت خم کرتے ہیں اور جو انصاف سے مخلوقات کی حفاظت کرنے والا اندر ہے ہر جنگ میں فتح پانے کے لئے مدعو کرتا ہوں اور پناہ لیتا ہوں۔ "

(یجر وید ادہیائے 20 منتر 50)

ایک جگہ پر میشور دعا دیتا ہے۔

" اے انسانو ! تمہارے ایدہ یعنی توپ بندوق وغیرہ آتشگیر اسلحہ اور تیر و کمان تلوار وغیرہ ہتھیار میری عنایت سے مضبوط اور فتح نصیب ہوں بدکردار دشمنوں کی شکست اور تمہاری فتح ہو تم مضبوط طاقتور اور کار نمایاں کرنے والے ہو تم دشمنوں کی فوج کو ہزیمت دے کر انہیں رو گردان وپسپا کرو۔ تمہاری فوج جرارو کارگزار اور نامی گرامی ہو تاکہ تمہاری عالمگیر حکومت روئے زمین پر قائم ہو اور تمہارا حریف ناہنجار شکست یاب ہو اور نیچا دیکھے (رگویدا سٹک اول ادہیا 3 وردگ 18 منتر 2)

ایک جگہ فرمان ہے۔

اے دشمنوں کے مارنے والے اصول جنگ میں ماہر بے خوف و ہراس پر جاہ و جلال عزیزو اور جوانمردو ! تم ! سب رعایا کے لوگوں کو خوش رکھو پر میشر کے حکم پر چلو اور بدفرجام دشمن کو (ہے مہاراج ! اتنی خفگی) شکست دینے کے لئے لڑائی کا سامان کرو تم نے پہلے میدانوں میں دشمنوں کی فوج کو جیتا ہے تم نے حواس کو مغلوب اور روئے زمین کو فتح کیا ہے تم روئین تن اور فولاد بازو ہو اپنے زور شجاعت سے دشمنوں کو تہ تیغ کرو تاکہ تمہارے زور و بازو اور ایشور کے لطف و کرم سے تمہاری ہمیشہ فتح ہو۔" (اتھروید کانڈ 6۔ اور دگ 97 منتر 3)

مال غنیمت کی تقسیم (جس کا اس آیت میں ذکر ہے) کی نسبت آریوں اور ہندوئوں کے مسلمہ پیشوا منوجی فرماتے ہیں۔

" (راجہ) اس آئین کو کبھی نہ توڑے کہ لڑائی میں جس جس ملازم یا افسر نے جو جو گاڑی۔ گھوڑا۔ ہاتھی۔ چھتر۔ دولت۔ رسد گائے وغیرہ جانور نیز عورت اور دیگر قسم کا مال و متاع اور گھی و تیل کے کپے فتح کئے ہوں وہی اس کو لیوے لیکن فوج کے آدمی فتح کی ہوئی چیزوں میں سے سولہواں حصہ راجہ کو دیویں۔" (منوا دھیائے 7)

یہ ہے دونوں قوموں کی مذہبی تعلیم اور اگر ان کا ذاتی عمل دیکھیں تو کوئی حد ہی نہیں۔ کون ہے جو یورپ کی جنگوں سے واقف نہیں کہ گیا رھویں صدی عیسوی میں صرف بیت المقدس کو مسلمانوں سے چھڑانے پر قریباً ساٹھ لاکھ جانیں ضائع کیں گذشتہ واقعات نہ سہی یورپ کی 1914 ء و 1919 ء کی جنگ عظیم تو ابھی کل کی بات ہے کون ہے جس نے آریہ قوم کی لڑائیاں نہ سنی ہوں مگر چونکہ ہمیں ان کے ذاتی عمل سے بحث نہیں بلکہ مذہبی تعلیم سے مقابلہ دکھانا ہے اس لئے ذاتی عمل کا ذکر نہیں۔

اصل یہ ہے کہ دشمن کی مدافعت اور اپنی ترقی انسان کی فطرت میں داخل ہے کوئی ایسا رحیم النفس اور کریم الاخلاق ہے؟ کہ زہریلے سانپ کو آتا دیکھ کر اور اس بات پر یقین ہو کر کہ یہ سانپ یقینا مجھے ضرر پہنچائے گا اس کا دفعیہ نہ کرے گو زبانی کہنے اور جی خوش کرنے کو تو بہت دفعہ آدمی کہا کرتا ہے کہ تو

" ظالم کا مقابلہ نہ کر بلکہ جو تیرے داھنے گال پر تماچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے جو کوئی تجھے ایک کوس بیگار لیجائے اس کے ساتھ دو کوس چلا جا" (انجیل متی 6 باب کی 39)

مگر عمل کرتے وقت ایسے شیریں کلاموں سے بجز رطب اللسان ہونے کے اور کچھ فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ قانون قدرت کا مقابلہ کرنا آسان کام نہیں جب کہ قدرت نے دشمن کی مدافعت انسان کی فطرت میں رکھی ہے تو کون ہے جو اسے بدل سکے۔

اس پر طرہ یہ کہ قرآن شریف پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ تلوار کے زور سے مسلمان بنانے کی تعلیم دیتا ہے حالانکہ کئی ایک آیتیں اس مضمون کی موجود ہیں کہ کفار سے باوجود مادہ شرارت ان میں موجود ہونے اور بہ قرائن تو یہ معلوم ہوجانے پر بھی جب تک دوبارہ فساد و شرارت ظاہر نہ ہو ان سے تعرض نہ کرو غور سے پڑھو۔

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَأْمَنُوْ کُم وَیَامَنُوا قَوْمَہُمْ کُلَّمَا رُدُّوْا اِلَی الفِتْنَۃِ اُرْکِسُوْا فِیْھَا فَاِنْ لَمْ یَعْتَزِلُوْ کُمْ وَیُلْقُوا اِلَیْکُمُ السَّلَمَ وَیَکُفُّوْا اَیْدِیَھُمْ فَخُذُوْھُمْ وَاقْتُلُوْھُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ وَاُولٰئِکُمْ جَعَلْنَا لَکُمْ عَلَیْہِمْ سُلْطَانًا مُبِیْنًا

ایسے لوگ بھی تم کو ملیں گے جن کی خواہش یہ ہوگی کہ تم سے بھی اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں لیکن جب کبھی ان کو لڑائی پر تمہارے خلاف اکسایا جائے گا تو فوراً آمادہ ہوجائیں گے پس اگر وہ تم سے علیحدہ نہ رہیں اور تمہارے ساتھ صلح نہ رکھیں اور اپنے ہاتھ تم سے نہ روکیں تو ان کو پکڑو اور جہاں پائو ان کو قتل کرو ایسے ہی شریروں پر ہم تم کو غلبہ دیں گے۔ 12 منہ

گویہ بہتان اس قابل ہی نہیں کہ اس کے دفعیہ کی کوشش کی جائے تاہم آیتہ مرقومہ بالا اس کی بیخ کنی اور اس کے بانیوں کی قلعی کھولنے کو کافی ہے اس لیے اس مضمون کے دوسرے حصے پر ہم آتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ عیہی وسلم کے مشہور غزوات (جنگوں) کا کسی قدر بیان کرتے ہیں۔

جنگ بدر:۔ اس لڑائی کا سبب حسب روایت امام بخاری و موافق بیان علامہ ابن خلدون وغیرہ یہ ہے کہ مکے والوں کا قافلہ جس میں تیس چالیس آدمی تھے شام کے ملک سے اسباب لے کر آرہا تھا جب اس کے آنے کی خبر مدینہ میں پہنچی تو چونکہ حربی تھے اور ہمیشہ برسر فساد رہتے تھے حسب قاعدہ جنگ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو روکنا چاہا چنانچہ تیاری کی تھی کہ قافلہ والوں کو بھی خبر پہنچ گئی انہوں نے ایک طرف تو ایک آدمی مکے والوں سے امداد مانگنے کے لئے بھیجا دوسری طرف سوچ بچار کر ایک مخفی راہ سے خفیہ خفیہ مسلمانوں سے بچ کر نکل گئے مکے والوں کی فوج جو قریب ایک ہزار کے ان کی امداد کو آئی تھی جن کا سپہ سالار خود ابوجہل رئیس مکہ تھا چونکہ جنگ کی تیاریاں کر کے مکہ سے نکلے تھے اس لیے ان کی غیرت اور اللہ تعالیٰ کی حکمت نے ان کو باوجود قافلہ کی سلامتی سے… پہنچ جانے کی خبر سن لینے کے واپس جانے کی اجازت نہ دی چنانچہ ایک مقام بدر پر دونوں (مکی۔ مدنی) فوجوں کا مقابلہ ٹھیر گیا۔ مکی فوج نہ صرف تعداد میں دگنی تگنی تھی بلکہ ساز و سامان میں بھی بڑھی ہوئی تھی۔ مگر مسلمانوں نے بھی بڑے حوصلہ سے مقابلہ کیا اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتے بھی اس جنگ میں مسلمانوں کی امداد کو اترے آخر کار اللہ تعالیٰ کے فضل سے کفار پر غالب آئے ستر آدمی ان کے مارے گئے اور ستر قید ہوئے جن میں حضرت عباس آنحضرت کے حقیقی چچا اور ابو العاص آپ کے داماد بھی تھے باقی فوج مشرکوں کی سب فرار ہوگئی ان گرفتاروں کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مشورہ لیا عموماً صحابہ کی رائے بدلہ لے کر چھوڑ دینے کی ہوئی سوائے حضرت عمر (رض) کے کہ انہوں نے نہایت زور سے درخواست کی کہ میرے رشتہ دار مجھے دے دیجئے میں ان کو قتل کر دوں۔ ابوبکر (رض) کے ابوبکر کو دے دیجئے علی (رض) کے علی کو۔ ان موذیوں نے ہماری ایذا رسانی میں کون سا دقیقہ اٹھا رکھا ہے کہ آئندہ کو ان سے خیر کی امید ہوسکتی ہے مگر چونکہ مسلمانوں کو روپیہ کی اشد ضرورت تھی اس لئے نقدی عوض بطور جرمانہ لے کر ان کو رہا کردیا گیا۔ حضرت عمر (رض) کی رائے تقدیر الٰہی کے موافق تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے عوض لینے پر ناراضگی فرمائی (کیونکہ جنگ میں خونریزی کافی ہوئی تھی) چنانچہ اسی سورت کے پانچویں رکوع میں اس کا ذکر آتا ہے۔ یہ واقعہ ماہ رمضان 2 ہجری کا ہے ابوجہل بھی مع کئی ایک دوستوں کے اسی جنگ میں کام آیا۔ یہ تو مختصر سا اس کا تاریخی تذکرہ ہے مگر سر سید احمد خاں مرحوم نے اس بیان میں کئی حصوں میں اختلاف کیا ہے اول تو وہ اس جنگ کی یہ وجہ جو ہم نے بحوالہ امام بخاری اور علامہ ابن خلدون وغیرہ لکھی ہے نہیں مانتے دوئم وہ نزول ملائکہ سے بھی منکر ہیں۔ سوم وہ حضرت عمر (رض) کے قصے کو بھی جو اسیران جنگ سے متعلق ہے نہیں مانتے اس لئے ان تینوں مسئلوں پر ہم کسی قدر بحث کرتے ہیں۔

پہلے مسئلے کے متعلق سید صاحب لکھتے ہیں۔

" تمام مسلمان مؤرخوں کا جن کی عادت میں داخل ہے کہ بلاسند روایتوں اور غلط اور صحیح افواہوں کو بلا تصحیح و تنقید اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں اور انہیں پر بنا واقعات قائم کرتے ہیں یہ قول ہے کہ آنحضرت اور ان کے صحابہ نے یہ بات خیال کر کے کہ ابی سفیان کے ساتھ قافلہ میں لوگ بہت تھوڑے ہیں اور مال بہت زیادہ ہے لوٹ لینے کا ارادہ کیا تھا اور اسی وجہ سے کوچ کیا اس کی خبر جب قریش مکہ کو پہنچی تو انہوں نے نفیر عام کی اور قافلہ کے بچانے کو نکلے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ قریش کے ساتھ لڑنے اور ان کے قافلہ کو لوٹنے کا قصد اول آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کیا۔ اور اس کے دفع کرنے کو قریش بقصد لڑائی نکلے۔ ان مسلمان مورخوں کی نادانی اور غلطی سے مخالفین مذہب اسلام کو آنحضرت صلعم اور صحابہ کی نسبت قافلوں کے لوٹنے کا جو پیغمبری کی شان کے شایاں نہیں ہے اور بلاسبب لڑائی کی ابتدا کرنے کے الزام لگانے کا موقعہ ہاتھ آیا اور بہت زور و شور سے ان الزاموں کو قائم کیا ہے۔ مگر درحقیقت یہ الزام محض غلط اور بے بنیاد ہیں اور وہ حدیثیں اور روایتیں جن کی بنا پر وہ الزام قائم کئے ہیں از سر تا پا غلط اور غیر مستند ہیں۔ قرآن مجید میں یہ واقعہ تو نہایت صفائی سے مندرج ہے اور اس میں صاف بیان ہوا ہے کہ کس گروہ کے مقابلہ میں آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مقابلہ کے قصد سے کوچ فرمایا تھا آیا قافلہ لوٹنے کے ارادہ سے یا اس گروہ کے مقابلہ کے لئے جن کو قریش مکہ نے لڑنے کے ارادہ سے جمع کر کے کوچ کیا تھا اور آنحضرت صلعم کا کوچ فرمانا قریش مکہ کے کوچ کرنے کے بعد ہوا تھا یا اس کے قبل ہوا تھا۔ (تفسیر جلد چہارم ص 3۔ 4)

سید صاحب کی منقولہ بالا تحریر میں جیسے کل محدثین اور مورخین اسلام سے ان کا اختلاف معلوم ہوتا ہے اس اختلاف کی وجہ بھی صاف مفہوم ہوتی ہے کہ آپ کو مخالفین اسلام کے الزاموں سے بے چینی اور گھبراہٹ ہو رہی ہے جس گھبراہٹ کا علاج انہوں نے اسی میں سمجھا کہ ان واقعات کا سرے سے انکار ہی کیا جائے اس لئے ہمارے نزدیک سید صاحب کی نیت صحیح ہے اور فعل غلط۔ ہم نے اس اعتراض کا جواب دے دیا ہے۔ چونکہ قریش مکہ حربی تھے یعنی آنحضرت (علیہ السلام) سے ان کی جنگ بدستور قائم تھی اور کوئی باقاعدہ صلح نہ ہوچکی تھی چنانچہ اس جنگ (بدر) سے پہلے کئی ایک چھوٹی چھوٹی لڑائیاں ان کی ہوچکی تھیں جن کا ذکر سید صاحب نے بھی جلد چہارم ص 70 سے ص 72 تک کیا ہے تو ایسے لوگوں کا مال و اسباب چھین لینا یا ان پر لوٹ ڈالنی کسی شرعی حکم اور قاعدہ جنگ کے خلاف نہیں سید صاحب کے خلاف ہو تو ہو اور تو نہ کسی اہل مذہب کے خلاف ہے اور نہ کسی متمدا نہ قوم کے مخالف۔ کیا یورپ کی جنگ عظیم میں کوئی فریق کسی فریق کے اسباب چھیننے یا لوٹنے سے رکتا اور دریغ کرتا تھا؟ پس اسی قاعدہ پر کفار قریش اور آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا معاملہ ہے کوئی گھبراہٹ اور بے چینی کی بات نہیں صرف سید صاحب کی دور اندیشی ہے ہاں اگر دشمنوں کے مال پر کسی طرح بوقت غلبہ بھی تصرف کرنا منع ہے پھر تو فیصلہ ہی آسان ہے مگر اسے تو سید صاحب بھی مانتے نہیں چنانچہ آپ نے بھی صفحہ 9 پر مال غنیمت کی تقسیم بتلائی ہے اور قرآن شریف کی نص ! وَاعْلَمُوْا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیئٍ فَاِنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَلِلْرَّسُوْلِ۔ الایۃ موجود ہے۔

دوسرے امر (نزول ملائکہ سے انکار) کے متعلق آپ فرماتے ہیں:

" ہمارے نزدیک نہ ان لڑائیوں میں ایسے فرشتے جن کو لوگ ایک مخلوق جداگانہ اور متحیر بالذات مانتے ہیں آئے تھے اور نہ اللہ تعالیٰ نے ایسے فرشتوں کو بھیجنے کا وعدہ کیا تھا اور نہ قرآن مجید سے ایسے فرشتوں کا آنا یا اللہ تعالیٰ کا ایسے فرشتوں کے بھیجنے کا وعدہ کرنا پایا جاتا ہے اگر ہم حقیقت ملائکہ کی بحث کو الگ رکھیں اور فرشتوں کو ویسا ہی فرض کرلیں جیسا کہ لوگ مانتے ہیں تو بھی قرآن مجید سے ان کا فی الواقع آنا یا لڑائی میں شریک ہونا ثابت نہیں ہے۔ سورۃ آل عمران کی پہلی آیت میں تو صرف استفہام ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تین ہزار فرشتوں سے مدد کرے تو کیا تم کو کافی نہ ہوگا اور دوسری آیت میں ہے کہ اگر تم لڑائی میں صبر کرو گے تو اللہ تعالیٰ پانچ ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا۔ مگر ان دونوں آیتوں سے اس کا وقوع یعنی فرشتوں کا آنا کسی طرح ظاہر نہیں ہوتا۔ سورۃ انفال کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کہا کہ میں تمہاری ہزار فرشتوں سے مدد کروں گا مگر اس سے بھی فرشتوں کا فی الواقع آنا نہیں پایا جاتا اس پر یہ خیال کرنا کہ اگر مدد موعودہ وقوع میں نہ آئی ہو تو اللہ تعالیٰ کی نسبت خلف وعدہ کا الزام آتا ہے صحیح نہیں ہے کیونکہ مدد کی حاجت باقی نہ رہنے سے مدد کا وقوع میں نہ آنا خلف وعدہ نہیں ہے۔ مسلمانوں کی اللہ تعالیٰ کی عنایت سے فتح ہوگئی تھی اور فرشتوں کو تکلیف دینے کی (کیا فرشتے بھی آپ 1 ؎ کی طرح عمر رسیدہ ہیں کہ ان کو حرکت کرنے میں تکلیف ہوتی ہے) حاجت باقی نہیں رہی تھی یہ کہنا کہ وہ فتح فرشتوں کے آنے سبب سے ہوئی تھی اس لیے صحیح نہیں ہے کہ اس کے لئے اول قرآن مجید سے فرشتوں کا آنا ثابت کرنا چاہئے اس کے بعد کہا جاسکتا ہے کہ فرشتوں کے آنے سے فتح ہوئی تھی روایتوں کو فرشتوں کے آنے پر سند لانی کافی نہیں ہے اول تو وہ روایتیں ہی معتبر اور قابل استناد نہیں ہیں۔ (گو صحیح بخاری کی روایت بھی ہو جس کو اسی جلد کے ص 83 پر سب سے زیادہ معتبر کہہ چکے ہیں) دوسرے خود ان کے مضمون ایسے بے سر و پا ہیں جن سے کسی امر کا ثبوت حاصل نہیں ہوسکتا خصوصاً اس وجہ سے کہ خود راوی فرشتوں کو دیکھتے نہیں تھے۔" (تفسیر جلد 4 ص 11۔ 12)

بے شک سید صاحب کا یہ قول صحیح ہے کہ اول قرآن مجید سے فرشتوں کا آنا ثابت کرنا چاہئے کہ پہلے ہم قرآن شریف سے نزول ملائکہ کا ثبوت دیں مگر قرآن شریف سے نزول ملائکہ کا ثبوت دینا ایسا مشکل نہیں ہے جیسے کہ سید صاحب کے اس پر دستخط کرانے مشکل ہیں پس سید صاحب کے دوست اور ہمارے ناظرین اگر دوسرے کام کی ہمیں تکلیف نہ دیں تو پہلے کے لئے ہم حاضر ہیں۔

سورۃ انفال کی آیت کا مضمون ہے کہ

اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ اِنِّی مُمِدُّکُمْ بِاَلْفٍ مِنَ المَلَائِکَۃِ مُرْدِفِیْنَ

جس وقت تم اپنے پروردگار سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری دعا کو بدیں مضمون قبول فرمایا کہ میں ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کرنے کو ہوں۔

اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جس جنگ اور گھبراہٹ کے متعلق آنحضرت اور مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ سے فریاد کی تھی اسی جنگ میں مدد بھیجنے کا وعدہ کیا تھا جو بحکم اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُخْلِفُ المِیْعَاد پوری بھی ہوئی ہوگی اس پر سید صاحب کا یہ عذر کرنا کہ مدد کی حاجت باقی نہ رہنے سے رد کا وقوع میں نہ آنا خلاف وعدہ نہیں ہے۔" ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ کیونکہ جس جنگ میں آنحضرت نے جناب باری میں بالحاح وزاری (جیسا کہ بخاری و مسلم وغیرہ کتب احادیث و تاریخ میں موجود ہے) دعا کی تھی اس میں بے سروسامانی کی یہ حالت تھی کہ پانی تک بھی دشمنوں کے قبضہ میں تھا اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منہ سے یہ الفاظ بھی نکل گئے تھے کہ اللھم ان شئت لم تعبد (یا اللہ تعالیٰ اگر تیری یہی مرضی ہے کہ مسلمان یہاں اس بے سروسامانی میں ہلاک ہوں تو تیری خالص عبادت دنیا میں نہ کی جائے گی' پھر کس ذریعہ اور کس وجہ سے ان کو مدد کی ضرورت نہ ر ہی تھی کہ خلف وعدہ کا الزام نہ ہو حالانکہ برابر فتح کے ظہور پذیر ہونے تک یہی حالت رہی تھی۔

دوسری آیت اس سے بھی واضح تر ہے جس کا مضمون ہے کہ

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّکَ اِلَی الْمَلٰئِکَۃِ اَنِّیْ مَعَکُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَااُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّغْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْہُمْ کُلَّ بَنَانٍ۔ (انفال ع 2)

اللہ تعالیٰ فرشتوں کو الہام کرتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں پس تم مسلمانوں کو لڑائی پر مضبوط رکھو میں کافروں کے دلوں میں رعب ڈالوں گا پس تم ان کی گردنوں کو مارنا اور ان کے ہر ایک جوڑ پر ضرب لگانا۔

یہ آیت بھی اپنے مضمون میں صاف ہے کہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا کہ مسلمانوں کی دلجمعی کرو اور کافروں کی گردنیں اڑائو مگر سید صاحب نے اسے بھی دودھ کی کھیر کی طرح ٹیڑھا بنا دیا ہے آپ فرماتے ہیں:

فتح کے اتفاقی اسباب سے جو بعض اوقات آفات ارضی و سماوی کے دفعتہ ظہور میں آنے سے ہوتے ہیں قطع نظر کر کے دیکھا جائے کہ ان لوگوں پر کیا کیفیت طاری ہوتی ہے جو فتح پاتے ہیں ان کے قویٰ اندرونی جوش میں آتے ہیں۔ جرأت' ہمت، صبر، شجاعت، استقلال، بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اور یہی قویٰ اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ فتح مندوں کو فتح دیتا ہے اور اس کے برخلاف حالت یعنی بزدلی اور رعب ان لوگوں پر طاری ہوتا ہے جن کی شکست ہوتی ہے پس ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا کہ میں فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا مگر وہ بجز خوشخبری فتح کے اور کچھ نہیں ہے جس کے سبب تم میں ایسے قویٰ برانگیختہ ہوں گے جو فتح کے باعث ہوں گے تمہارے دل قوی ہوجاویں گے لڑائی میں تم ثابت قدم ہو گے۔ جرأت۔ ہمت۔ شجاعت کا جوش تم میں پیدا ہوگا اور دشمنوں پر فتح پائو گے یہ معنی ان آیتوں کے ہم نے پیدا نہیں کئے ہیں بلکہ خود اللہ تعالیٰ نے یہی تفسیر اپنے کلام کی کی ہے جہاں اسی سورت میں اور اسی واقعہ کی نسبت فرماتا ہے اِذْ یُوْحِیْ رَبُّکَ اِلَی الْمَلٰئِکَۃِ اَنِّیْ مَعَکُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَالْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّغْبَ یعنی جب تیرا پروردگار فرشتوں کو وحی بھیجتا تھا (یہ وہی فرشتے ہیں جن کے بھیجنے کا مدد کے لئے وعدہ کیا تھا) کہ میں تمہارے (یعنی مسلمانوں کے) ساتھ ہوں (تو ان فرشتوں سے یہ کام لینے چاہے تھے) کہ ثابت قدم رکھو ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں میں بہت جلد ان لوگوں کے دلوں میں جو کافر ہیں رعب ڈالوں گا۔ لڑائی میں ثابت قدم رکھنے والی کون چیز تھی وہی ان کی جرأت اور ہمت تھی کوئی اور شخص ان کے پاس کھڑے ہوئے شاباش شاباش نہیں کہہ رہے تھے پس ظاہر ہے کہ فرشتوں سے مراد ہی قویٰ انسانی تھے جنکے پاس وحی بھیجی تھی اور جو لڑنے والوں میں موجود تھے (تفسیر جلد 4 ص 13۔ 14)

اصل یہ ہے کہ سید صاحب چونکہ وجود خارجی ملائکہ سے منکر ہیں یعنی ان کو متخیر بالذات نہیں مانتے اس لئے جہاں کہیں کوئی ایسا کام ملائکہ کی طرف منسوب ہوتا ہے وہاں پر وہ بپابندی اصول خود مجبور ہیں پس اصل بحث اس امر پر نہیں کہ فرشتے جنگ بدر میں آئے تھے یا نہ بلکہ اس امر پر ہے کہ فرشتوں کا کوئی وجود خارجی ہے کہ نہیں کیونکہ فرشتوں کا نزول تو سر سید کو قبول ہے لیکن انکے نزدیک فرشتے انسانی قوی کے نام ہیں اور بس۔ پس اس مسئلہ کی تحقیق کے لئے ہم اپنے ناظرین کو جلد اول تفسیر ثنائی کا حوالہ دیتے ہیں جہاں وجود ملائکہ پر بحث ہوچکی ہے۔ ہاں سورۃ آل عمران کی آیت کے جو معنی سید صاحب نے بتائے ہیں وہ ضرور قابل بیان ہیں آیت کا مضمون ہے کہ

اَلَنْ یَّکْفِیَکُمْ اَنْ یُّمِدَّکُمْ رَبَّکُمْ بِثَلاَثۃِ اٰلاٰفٍ مِّنَ الْمَلٰئِکَۃِ مُنْزَلِیْنَ۔ (ال عمران ع 13)

کیا تم کو کافی نہیں کہ اللہ تعالیٰ تین ہزار اتارے ہوئے فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا

یعنی اللہ تعالیٰ پیغمبر کے کلام کو نقل کرتا ہے کہ جب یہ کہتا تھا جس سے صاف سمجھ آتا ہے کہ فرشتوں کا تقرر ہوچکا تھا جس کا ذکر رسول اللہ تعالیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فوج میں کر رہے تھے مگر سید صاحب فرماتے ہیں کہ:

" سورۃ آل عمران میں آیت میں تو صرف استفہام ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تین ہزار فرشتوں سے مدد کرے تو کیا تم کو کافی نہ ہوگا۔" (جلد چہارم۔ ص 11)

غور کیجئے سید صاحب نے اس میں کیا غضب کیا ایک تو قطعی امداد کو " اگر" لگا کر شکی بنا دیا حالانکہ استفہام صرف کفائت سے متعلق تھا نہ کہ امداد سے دوم یہ کیا عذر کہ آیت میں صرف استفہام ہے۔ کیا استفہام تقریری حکم قضیہ تبیہ کا نہیں رکھتا کیا اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ اور اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ اور اَلَیْسَ اللّٰہُ بِعَزِیْزٍ ذِی انْتِقَامٍ اور اَلَیْسَ ذٰلِکَ بِقَادِرٍ عَلٰی اَنْ یُّحْیِیَ الْمَوْتٰی وغیرہ بھی اسی طرح قابل توجہ نہیں کہ ان آیتوں میں یہی صرف استفہام ہے جس سے یہ سمجھ میں نہیں آتا؟ کہ اللہ تعالیٰ واقعی اپنے بندوں کو کافی ہے یا واقعی وہ سب کا رب ہے یا واقعی وہ غالب ذوالانتقام ہے یا واقعی وہ مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے وغیرہ اگر ان آیتوں سے یہ مضمون ثابت نہیں ہوتے تو ہم بھی قائل ہوئے کہ آیت زیر بحث سے فرشتوں کا مسلمانوں کی امداد کے لئے آنا ثابت نہیں ہوتا

ہٹ چھوڑئیے بس اب سر انصاف آئے ر

انکار ہی رہے گا میری جان کب تلک

سید صاحب نے ضمیر ما جعلہ اللہ تعالیٰ پر بھی بحث کی ہے اور تابمقدور اپنے مفید مطلب بنانا چاہا ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔

" برخلاف اس کے قرآن مجید سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی ایک فرشتہ بھی نہیں آیا تھا (سید صاحب ! فرشتوں کا نزول تو آپ ص 12 و 14 پر مانتے ہیں صرف کیفیت میں کلام ہے پھر یہاں پر سرے سے جواب کیوں دیتے ہیں) دونوں سورتوں میں اس آیت کے بعد جس میں فرشتوں کے بھیجنے کو کہا ہے یہ آیت ہے وَمَا جَعَلَہُ اللّٰہُ الاَّ بُشْرٰی لَکُمْ وَلِتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُکُمْ وَمَا النَّصْرُ الاَّ مِنْ عِنْدِاللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ یعنی اور نہیں کیا اس کو اللہ تعالیٰ نے مگر خوشخبری تمہارے لئے تاکہ مطمئن ہوجائیں اس سے تمہارے دل اور فتح نہیں ہے مگر اللہ تعالیٰ کے پاس سے بیشک اللہ تعالیٰ غالب ہے حکمت والا۔" یہ بات غور کے لائق ہے کہ وما جعلہ اللہ تعالیٰ میں جو ضمیر ہے وہ کس کی طرف راجع ہے امام رازی صاحب فرماتے ہیں کہ ضمیر راجع ہے طرف مصدر کے جو صریحاً مذکور نہیں ہے مگر لفظ یمدکم میں ضمنا داخل ہے یعنی ماجعل اللہ تعالیٰ الامداد الا بشری اور زجاج کا قول ہے کہ ما جعلہ اللہ تعالیٰ ای ذکر المدود الا بشری مگر امام رازی صاحب نے جو فرمایا ہے وہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے کہا تھا کہ میں تمہاری فرشتوں سے مدد کروں گا پھر فرمایا کہ وہ یعنی یہ کہنا کہ میں فرشتوں سے مدد کروں گا صرف خوشخبری تھی پس علانہا سیاق عبارت سے ظاہر ہے کہ ماجعلہ کی ضمیر قول امداد و ذکر امداد کی طرف راجع ہے جیسا کہ زجاج کا قول ہے نہ بطرف مصدر کے جو مذکور بھی نہیں ہے البتہ اس صریح و صاف مرجع ضمیر کو چھوڑ کر مصدر کی طرف اس صورت میں ضمیر راجع ہوسکتی ہے کہ اول وقوع اس مدد کا یعنی فرشتوں کا آنا ثابت ہوجائے اور وہ ابھی تک ثابت نہیں ہوا۔ (ہم تو کر آئے) اس لئے مصدر کی طرف ضمیر کا راجع کرنا ٹھیک نہیں ہے " ماجعلہ" میں " ما" نافیہ ہے جو عام طور پر نفی کرتا ہے اس لئے سورۃ آل عمران کی آیت کے صاف معنے یہ ہیں کہ نہیں کیا اللہ تعالیٰ نے پغمبر کے اس قول کو کہ کیا تمہارے لئے کافی نہیں ہے کہ تمہارے پروردگار فرشتوں سے مدد کرے کوئی چیز مگر بشارت یعنی صرف بشارت تاکہ تمہارے دل مطمئن ہوجائیں اور سورۃ انفال کی آیت کے صاف معنی یہ ہیں کہ جب تم نے اللہ تعالیٰ سے فریاد کی اور اس نے تمہارے فریاد کو قبول کیا کہ میں فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا تو نہیں کیا اللہ تعالیٰ نے اس قبول کرنے کو جس کے ساتھ فرشتوں سے مدد دینے کو کہا تھا کوئی چیز مگر بشارت تاکہ تمہارے دل مطمئن ہوجائیں اور یہ طرز کلام قطعاً اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کوئی ایسا فرشتہ جیسا کہ لوگ خیال کرتے ہیں لڑائی کے میدان میں نہیں آیا تھا" (جلد چہارم ص 12۔ 13)

گو مطلب بالکل صاف ہے مگر سید صاحب نے ناحق اسے طول دے کر وقت ضائع کیا زجاج کا قول بھی جو آپ کا مسلمہ ہے بجائے خود صحیح ہے اگر اس پر بھی بنا کریں تو کوئی شبہ نہیں ہوسکتا چنانچہ آپ نے بیک اس پر کوئی شبہ نہیں کیا بلکہ تسلیم کیا ہے اور اگر انزال الملائکہ کی طرف بھی جو مُنَزلِیْن سے مستنبط ہوتا ضمیر راجع کی جائے تو کیا حرج ہے معنی آیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کا بھیجنا یا (بقول آپ کے) بذریعہ ملائکہ تمہاری مدد کرنا محض تمہاری تسکین خاطر کو کیا تھا ورنہ مدد اور نصرت تو اللہ تعالیٰ غالب کے پاس سے ہے جن کو چاہے فتح دے چاہے وہ تھوڑے ہی ہوں بیشک ہم مانتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو بغیر فرشتوں کے بھی مسلمانوں کو فتح دیتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہر ایک گائوں میں ایک ایک نبی بھیج دیتا مگر اس سے یہ لازم نہیں کہ محمد رسول اللہ تعالیٰ صلی اللہ تعالیٰ عل ہے وسلم جو سب جہان کے لئے نبی ہونے کے مدعی ہیں معاذ اللہ تعالیٰ ان کا دعوی صحیح نہیں اسی پر کیا منحصر ہے جو کلام اللہ تعالیٰ کرتا ہے اگر چاہتا تو اور طرح سے بھی یہ مفاد ہم کو دے سکتا تھا۔ تو کیا اس سے ان طرق مفیدہ سے ہی انکار کردیں۔ فافہم

تیسرے امر یعنی اسیران جنگ کی نسبت سید صاحب لکھتے ہیں:

" ان قیدیوں کی نسبت آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ سے مشورہ کیا کہ کیا کیا جائے حضرت عمر اور سعد بن معاذ نے رائے دی کہ سب کو قتل کرنا چاہئے حضرت ابوبکر نے کہا کہ فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے چنانچہ فدیہ لے کر چھوڑ دیا گیا۔ فدیہ لینے پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ناراضگی ظاہر کی کیونکہ وہ لوگ بغیر لڑنے کے پکڑے گئے تھے اور اس لئے لڑائی کے قیدی جن سے فدیہ لیا جاسکتا ہے نہیں تھے اس پر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَمَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ جن لوگوں کی یہ رائے ہے کہ ان کے قتل نہ کرنے پر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہوئی تھی وہ کسی طرح پر صحیح نہیں ہوسکتی اس لئے اللہ تعالیٰ نے جب ان کا قیدی جنگ ہونا ہی نہیں قرار دیا تو ان کے قتل نہ کرنے پر کیونکر ناراضگی ہوسکتی تھی۔" (جلد چہارم ص 41)

سید صاحب کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ پکڑے گئے تھے وہ لڑائی کے قیدی نہ تھے کیونکہ وہ میدان جنگ میں نہ آئے تھے بلکہ بھاگتے ہوئے پکڑے گئے تھے جس کا ثبوت سید صاحب کے ذہن کے سوا کہیں نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس مقام پر آئتیں اور روایتیں جن میں اس قصہ کا ذکر ہے (جن کو سید صاحب نے بھی نقل کیا ہے مگر بقول آوہا تیتر آوہا بٹیر اوہوری چھوڑ دی ہیں) پوری نقل کر کے ان کے معنے بیان کردیں ان کے معنے بتلانے ہی سے سید صاحب سے ہمارا تصفیہ ہوجائے گا۔

ایک مقام پر اسیران جنگ کی نسبت ارشاد ہے کہ

حَتّٰی اِذَا اثْخَنْتُمُوْھُمْ فَشُدُّ وْالوَثَاقَ فَاِمَّا مَنَّا بَعْدُ وَاِمَّا فِدَآئً

جب تم خونریزی کرچکو تو ان کو مضبوطی سے قید کرلو بعد ازاں کیا تو تم احسان کر کے انہیں چھوڑ دو یا ان سے عوض مالی لے لیا کرو۔ غرض جیسا مناسب سمجھو کرو۔

اس آیت میں جس کے متعلق یہاں ذکر ہے۔ یوں ارشاد ہے کہ

مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَکُوْنَ لَہٗ اُسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الاَرْضِ

نبی جب تک اچھی طرح خونریزی نہ کرچکے اس کو قیدیوں کا رکھنا جائز نہیں۔

وہ روایت جس کو سید صاحب نے نقل کیا جس میں حضرت عمر کے مشورہ کا ذکر ہے اس میں یہ لفظ بھی ہیں کہ ونزل القران بقول عمر و ما کان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یتخن فی الارض الی اخر الایۃ (ترمذی) یعنی قرآن میں حضرت عمر کی رائے کے موافق یہ آیت اتری جو اوپر لکھی ہے پس روایت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آیت موصوفہ کے ایسے معنے ہونے چاہئیں جو حضرت عمر کے مشورہ کے موافق ہوں یعنی وہ مستحق قتل تھے جن کو قتل نہ کرنے پر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہوئی ہاں اس میں شک نہیں کہ ان معنی سے پہلی آیت جس کو ہم نے نقل کیا ہے جس میں اسیران جنگ کی بابت صرف احسان یا فدیہ کا ذکر ہے بظاہر مخالف ہے کیونکہ اس میں قتل کی کوئی صورت نہیں بتلائی گئی تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسیران جنگ دو قسم ہوتے ہیں ایک وہ جو لڑتے ہوئے سفید جھنڈا صلح کا کھڑا کردیتے ہیں اور ہتھیار ڈال دیتے ہیں ایسے قیدیوں سے وہی سلوک ہونا چاہئے جو آیت اول میں بیان ہوا ہے قسم دوم وہ قیدی ہوتے ہیں جو صلح کی درخواست نہیں کرتے اور نہ ہی ہتھیار ڈالتے ہیں مگر گھیرے میں آ کر پکڑے جاتے ہیں ان کا حکم دوسری آیت کے مطابق قتل ہے۔ تیسری آیت ان معنی کی تفسیر کرتی ہے جس میں ارشاد ہے کہ

وَاِنْ جَنَحُوْ الِلْسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَھَا " اگر کافر صلح کو جھکیں تو تم بھی جھک جائو۔ "

کیونکہ قسم اول کے قیدی گو بظاہر قیدی ہیں لیکن حقیقت میں ہتھیار ڈالنے سے وہ صلح کے طالب ہیں گو ان کے افسر یا حکومت نے صلح نہیں چاہی مگر خود ان کی صلح خواہی میں تو شک نہیں اس لئے ان کو قتل کرنا گویا مصالحین کو قتل کرنا ہے جو کسی طرح جائز نہیں اور قسم دوم کے قیدی ایسے نہیں بلکہ تا مواخذہ برسر قتال ہیں اس لئے ان کے برابر نہیں ہوسکتے جو ہتھیار ڈال کر طالب صلح ہوں بدر میں جو لوگ قیدی ہو کر آئے تھے وہ قسم دوم سے تھے یہی وجہ تھی کہ کسی صحابی نے حضرت عمر کے مقابل پر آیت اولیٰ پڑھ کر قائل نہیں کیا۔ پس جو شبہ سید صاحب کو اسیران جنگ کے واجب القتل ہونے پر تھا کہ آیت اولیٰ کے خلاف ہے گویا انہوں نے ظاہر لفظوں میں اس کا اظہار نہیں کیا ہماری تقریر سے دور ہوگیا۔ نیز آیتوں اور روایتوں میں بفضلہ تعالیٰ تطبیق بھی ہوگئی جو بظاہر مشکل تھی۔ فالحمدللہ

غزوہ احد:۔ دوسری مشہور جنگ آنحضرت سے شوال 3 ہجری میں جس کا نام جنگ احد ہے مدینہ سے باہر احد ایک پہاڑی ہے قریش مکہ بدر کی شکست کا عوض لینے کو تین ہزار جرار فوج لے کر بسر کردگی ابوسفیان مدینہ پر حملہ آور ہوئے ادھر سے اسلامی فوج جو ہزار سے بھی کم تھی مدینہ سے باہر احد کے پاس ان سے مقابل ہوئی اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے مسلمانوں کو فتح ہوئی مگر ذرا سی غلطی سے وہ فتح فوراً منقلب ہوگئی۔ مسلمان کفار کو بھاگتے ہوئے دیکھ کر مال غنیمت کے جمع کرنے میں مصروف ہوگئے۔ ادھر کفار نے ان کی مصروفیت سے فائدہ اٹھایا کہ فوراً لوٹ کر حملہ کردیا مسلمانوں کو سخت تکلیف ہوئی آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دانت مبارک شہید ہوئے آپ گڑھے میں گر گئے مگر ثبات قدمی جو قومی شرافت کے علاوہ لازمہ نبوت تھا اس وقت بھی برابر جلوہ گر تھا کہ آپ کو ذرہ لغزش نہ تھی بلکہ بالکل اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ تھا اور یقین تھا کہ ہماری ہی فتح ہوگی اسی جنگ میں آنحضرت کی وفات کی خبر بھی مشہور ہوگئی جس پر صحابہ کو سخت رنج ہوا اور قریب قریب تمام منتشر ہوگئے آخر بعد تحقیق خبر کے پھر جمع ہوگئے اسی اثنا میں مسلمان جمع ہو کر مشورہ کر رہے تھے کہ ابوسفیان نے بلند آواز سے پکارا کہ ابوبکر زندہ ہے؟ عمر ابن الخطاب زندہ ہے؟ جواب میں ذرہ دیر ہوئی تو یہ کہہ کر کہ سب مر گئے کہنے لگا اُعْلُ ھُبَل اُعْلُ ھبل (اے ھُبَلْ(بت کا نام ہے) تو بلند ہو کہ تیرے دشمن مر گئے اس پر آپ کے حکم سے حضرت عمر نے پکارا کہ اللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلُّ اللّٰہُ اَعْلٰے وَاَجَلُّ (اللہ تعالیٰ ہی بلند اور بزرگ ہے) پھر ابوسفیان نے پکارا اِنَّ العُزّٰی لَنَا وَلاَ عُزّٰی لَکُمْ (عزی بت ہمارا مددگار ہے اور تمہارا کوئی عزی نہیں) اس کا جواب بھی بحکم نبوی اس کو دیا گیا کہ اللّٰہُ مَوْلٰی لَنَا وَلاَ مَوْلٰی لَکُمْ (اللہ تعالیٰ ہمارا والی اور مددگار ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں) غرض اسی طرح کے سوال و جواب ہوتے رہے مگر کسی فریق نے بڑھ کر دوسرے پر حملہ نہ کیا آخر قریش عرب اسی پر قناعت کر کے واپس چلے گئے راہ میں جا کر ایک تجویز سوچی کہ ایک آدمی کو مدینہ بھیج کر یہ مشہور کریں کہ قریش کی فوج بے حد جمع ہو رہی ہے بہتر ہے کہ تم اس دین سے باز آجائو ورنہ وہ تم کو پیس ڈالیں گے مگر مسلمان اس امر سے ذرہ بھی خائف نہ ہوئے بلکہ حَسْبُنَا اللّٰہُ وَ نِعْمَ الوَکِیْلُ پڑھا۔ آنحضرت نے چند آدمی بغرض دریافت حال باہر بھیجے تو کوئی فوج ان کو نہ ملی آخر اسی طرح معاملہ رفع دفع ہوگیا۔ مسلمان قریباً ستر اس جنگ میں شہید ہوئے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہم

غزوۂ خندق:۔ تیسری مشہور جنگ غزوۂ خندق ہے ماہ شوال 4 ہجری میں ہوئی تھی جنگ بدر کی شکست اور احد کی ناکامی سے قریش مکہ کے دلوں میں سخت اضطراب تھا اتنے میں یہودیوں کے قبیلہ بنی نضیر وغیرہ کے چند سردار قریش مکہ کے پاس پہنچے اور مدد کا وعدہ دے کر ان کو مسلمانوں سے لڑنے پر اکسایا وہ پہلے ہی غیض و غضب میں بھرے ہوئے تھے پس ان کا اکسانا " دیوانہ را ہوے بس است" کا مصداق ہوا۔ چنانچہ قریباً دس ہزار فوج جرار لے کر بسر کردگی ابوسفیان مدینہ پر حملہ آور ہوئے۔ بنی نضیر نے ان کو اکسایا تھا بنی قریظہ یہودیوں کا قبیلہ بھی باوجود معاہدہ صلح کے ان سے مل گئے آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حسب مشورہ سلمان فارسی (رض) مدینہ کے گرد خندق کھدوائی (اسی وجہ سے اس کو غزوہ خندق کہتے ہیں) اس خندق کھودنے میں بہت سے خدائی کرشمے ظاہر ہوئے ایک پتھر نہایت سنگین تھا صحابہ سے اس کو جنبش نہ ہوئی تو آپ کو اطلاع کی گئی تو آپ نے اپنے ہاتھ مبارک سے اس کو توڑا اس کے ٹوٹتے ہوئے حسب دستور ایک چمکارا نکلا آپ نے فرمایا اس کی روشنی سے مجھے قیصر و کسری (روم اور ایران کے بادشاہوں) کے محلات دکھا دئیے گئے ہیں کہ یہ تیری امت کو ملیں گے الحمدللہ یہ پیشگوئی حرف بحرف پوری ہوئی) خندق کھودتے وقت دستور کے مطابق صحابہ رجز کرتے تھے یعنی اشعار شوقیہ حسب حال پڑھتے تھے اور آپ بھی بذات خاص ان کو جواب دیتے تھے ان اشعار میں سے چند اشعار یہ ہیں۔

صحابہ کہتے تھے نحن الذین بایعوا محمدا۔ علی الجہاد ما بقینا ابدا۔ آپ فرماتے تھے اللھم ! لاخیر الاخیر الاخرہ۔ فبارک فی الانصار والمھاجرۃ

ہم ہیں جنہوں نے محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) سے مرتے دم تک جہاد کرنے پر بیعت کی ہوئی ہے۔ 12

اے اللہ تعالیٰ خیر و برکت آخرت کی خیر ہے پس تو انصار اور مہاجرین میں برکت دے۔ 12

گا ہے آپ یہ اشعار بھی پڑھتے تھے اللھم لو لا انت ما اھتدینا۔ فلا تصدقنا ولا صلینا۔ انزلن ! سکینۃ علینا۔ ثبت الاقدام ان لاقینا۔ ان الاولاقد بغوا علینا۔ اذا ارادوا افتنۃ ابینا۔ اے اللہ تعالیٰ اگر تو مددگار اور راہ نما نہ ہوتا تو ہم نہ تو صدقہ دے سکتے اور نہ ہی ہم نماز پڑھ سکتے۔ 12 تو ہم پر تسلی اور تسکین نازل فرما اگر ہم دشمنوں سے جنگ میں ملیں تو تو ہمیں ثابت قدم رکھ۔ 12 ان کفار نے ہم پر زیادتی اور ظلم کئے ہیں جب انہوں نے ہم سے ناجائز حرکات چاہیں یعنی کفر و شرک کرانے پر زور دیا تو ہم نے انکار کردیا۔ 12

مہینہ بھر کفار کا محاصرہ رہا درمیان میں کبھی کبھی معمولی سی چھیڑ چھاڑ بھی ہوجاتی مگر کفار کے دل میں یہ غرور تھا کہ اب یہ مسلمان جائیں گے کہاں۔ شہر کے اندر گھرے ہوئے ہیں باہر کے دشمنوں کے علاوہ خود شہر میں بھی منافق چھپے دشمن بظاہر مومن خفیہ کافر موجود تھے جو ہر آن ان کو خبر پہنچاتے ہیں اس لئے قریش اس گھمنڈ میں تھے کہ یا تو اسی طرح گھبراہٹ سے بے چین ہو کر مر جائیں گے یا اپنے آبائی مذہب کی طرف رجوع ہوں گے اس واقعہ کی تکالیف شدیدہ کا مختصر سا نقشہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں بتلایا ہے۔ ارشاد ہے۔

اِذْجَآئُوْکُمْ مِّنْ فَوْقِکُمْ وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْکُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّوْنَ باللّٰہِ الظُّنُوْنَا ھُنَالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَزُلْزِلُوْا زِلْرَ الاً شَدِیْدًا وَاِذْ یَقُوْلُ الْمُنَافِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ مَّاوَعَدَنَا اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ الاَّ غُرُوْرًا وَاِذْ قَالَتْ طَآئِفَۃٌ مِنْہُمْ یَا اَھْلَ یَثْرِبَ لاَمُقَامَ لَکُمْ فَارْجِعُوْا وَیَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْہُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بَوْوْتَنَا عَوْرَۃٌ وَمَا ھِیَ بِعَوْرَۃٍ اِنْ یُّرِیْدُوْنَ الاَّ فِرَارًا (احزاب ع 2) یعنی جب کفار تم پر اوپر سے اور نیچے سے لوٹ پڑے تھے اور جب تمہاری آنکھیں ڈگنے لگی تھیں اور دل مارے گھبراہٹ کے حلق پر پہنچے ہوئے تھے اور تم اللہ تعالیٰ کی نسبت خلف وعدہ اور خوف ہلاکت کی مختلف بدگمانیاں کر رہے تھے اس وقت مسلمان سخت بلا میں مبتلا تھے اور سخت گھبراہٹ کے زلزلوں سے متزلزل ہوئے تھے یعنی جس وقت منافق اور مریض دلوں والے کہتے تھے کہ ہم سے تو اللہ تعالیٰ اور رسول نے محض دھوکہ کے وعدے دئیے تھے (کہ تمہاری ترقی ہوگی) اور جس وقت ایک جماعت ان میں سے یہ کہتی تھی کہ اے مدینہ والو ! تمہارے لئے کوئی جگہ نہیں پس بہتر ہے کہ تم اپنے آبائی مذہب کی طرف رجوع ہوجائو اور ان میں سے ایک جماعت نبی سے اجازت چاہتی تھی اس بہانہ سے کہ ہمارے گھروں میں کوئی نہیں بالکل خالی ہیں حالانکہ خالی نہ تھے بلکہ وہ ص?

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت